Saturday , January 20 2018
Home / دنیا / ایران میںمنشیات قوانین میں ترمیم، مجرمین کے پھانسی سے بچنے کے امکانات

ایران میںمنشیات قوانین میں ترمیم، مجرمین کے پھانسی سے بچنے کے امکانات

سزائے موت کے تمام کیسیز کا دوبارہ جائزہ لیا جائیگا
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی نے قوانین میں ترمیم کا خیرمقدم کیا
سزائے موت صرف بدعنوان لوگوں کیلئے برقرار رکھی جائے گی

تہران،11جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں قوانین میں ترمیم کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں سزائے موت پانے والی مجرمان پھانسی سے بچ سکتے ہیں۔نئے قوانین کے تحت منشیات سے متعلق بعض جرائم میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے اور عدالتی امور کے سربراہ نے کہا ہے کہ سزائے موت کے تمام کیسوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔قوانین میں ترمیم کا اطلاق ماضی کے کیسز پر بھی ہو گا اور اس کا مطلب ہے کہ پانچ ہزار کے قریب افراد سزائے موت پر عمل درآمد سے بچ جائیں گے ۔ایران میں ہر برس سینکڑوں کی تعداد میں افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے جن میں اکثریت کا تعلق منشیات سے متعلق جرائم سے ہوتا ہے ۔اگست میں ایرانی پارلیمان نے منشیات برآمد ہونے مقدار دوبارہ طے کی تھی جس پر سزائے موت دی جا سکتی ہے ۔گذشتہ قوانین کے تحت 30 گرام کوکین برآمد ہونے پر سزائے موت ہو سکتی تھی تاہم اب اس مقدار کو بڑھا کر دو کلوگرام کر دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ چرس اور افیون کی مقدار کو بڑھا کر 50 کلوگرام تک کر دیا گیا ہے ۔عدالتی امور کے سربراہ آیت اللہ صدیق لاریجانی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ زیادہ تر کیسز میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ایران میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم آئی ایچ آر کے اہلکار محمد عماری مخددم نے قانون میں ترمیم کا خیرمقدم کیا ہے ۔انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قانون مناسب طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے تو یہ ترمیم دنیا بھر میں سزائے موت کے استعمال کو کم کرنے کے اہم ترین اقدامات کیلئے تحریک ہوگی۔ تاہم انھوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ پہلے سے سزائے موت پانے والے مجرمان اس سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے ۔جبکہ منشیات کے جرائم میں سزائے موت پانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق ایران کے سب سے پسماندہ طبقے سے ہے اور یہ نہیں کہا گیا کہ انھیں اس کے بارے میں علم ہو گا اور وسائل ہوں گے کہ وہ اپنی سزا میں کمی کے لیے درخواست دائر کر سکیں۔اس کے علاوہ حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی نے بھی قوانین میں ترمیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں ہونے والی پیشرفت پر نگاہ رکھیں گے ۔ایمنسٹی کی ایک ترجمان نے بیان میں کہا کہ ایرانی انتظامیہ کو لازمی منشیات سے متعلق جرائم پر سزائے موت ختم کرتے ہوئے مرحلہ وار دیگر جرائم میں بھی اس کا خاتمہ کرنا چاہئے۔ تنظیم کے مطابق ایران میں 1988 سے اب تک منشیات سے متعلق جرائم میں دس ہزار افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے ۔سال 2016 میں ایران کے وزیر انصاف نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کو سزائے موت کی بجائے کوئی دوسری سخت سزا دی جائے اور ان جرائم کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے جن کے تحت سزائے موت دی جاتی ہے اور سزائے موت کو صرف ’بدعنوان لوگوں‘کے لیے رکھا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT