Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / ایران میں حادثہ کا شکار طیارہ کے ملبہ کا پتہ چل گیا

ایران میں حادثہ کا شکار طیارہ کے ملبہ کا پتہ چل گیا

دو دن کی برفباری کے بعد بہتر موسم سے تلاش میں مدد۔ ملبہ کے اطراف مسافرین کی نعشیں بکھری پڑی ہیں
تہران 20 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران کی تلاشی ٹیموں نے آج حادثہ کا شکار طیارہ کے ملبہ کا پتہ چلالیا ۔ یہ طیارہ دو دن قبل زاگروس کے پہاڑی علاقہ میں حادثہ کا شکار ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں اس پر سوار تمام 66 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ ایک ترجمان نے یہ بات بتائی ۔ اسیمان ائرلائینز کا طیارہ زاگروس پہاڑی خطہ میں پہونچنے کے بعد اتوار کی صبح لاپتہ ہوگیا تھا ۔ یہ طیارہ اڑان بھرنے کے 45 منٹ بعد راڈار سے لاپتہ ہوا تھا ۔ دو دن تک بھاری برفباری اور کہر کے بعد آج موسم بالآخر واضح ہوگیا جس کے نتیجہ میں ہیلی کاپٹر کی ٹیمیں بہتر بصارت کی قابل ہوئیں۔ ترجمان رمضان شریف نے سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی کو بتایا کہ انقلابی گارڈز کے ہیلی کاپٹرس نے آج صبح طیارہ کے ملبہ کا پتہ چلایا جو ڈینا پہاڑی کے قریب دستیاب ہوا ۔ آئی آر آئی بی کے ایک صحافی نے ایک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے بات کی ہے اور کہا کہ پائلٹ نے طیارہ کے افراد بکھری ہوئی نعشیں بھی دیکھی ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ یہ ملبہ ناگھول گاوں کے قریب دستیاب ہوا ہے ۔

ترجمان کے بموجب کل سے ہی انقلابی گارڈز کے ڈرون طیاروں سے ایک علاقہ کی نشاندہی کی گئی تھی اور وہاں تلاشی مہم جاری تھی جہاں طیارہ امکانی طور پر حادثہ کا شکار ہوا ہے اور آج صبح اس علاقہ میںدو ہیلی کاپٹرس کو روانہ کیا گیا تھا ۔ 4,409 فیٹ کی بلندی پر برفیلی پہاڑیوں میں تلاش کا کام جاری تھی اور یہاں تقریبا 100 کوہ پیماؤں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی تھیں ۔ کہا گیا ہے کہ گذشتہ شب کئی افراد پہاڑیوں پر ہی مقیم رہے اور انہوں نے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہوئے مقامی گائیڈز کی مدد سے تمام علاقہ کی تلاشی لی ہے ۔ ایک علاقائی بحران مکرز کے سربراہ منصور شیشہ فروش نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرون طیاروں سے تقریبا 500 تصاویر لی گئی تھیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ اے ٹی آر 72 دوہرے انجن والا یہ طیارہ 1993 سے خدمت میں تھا اور اس نے اتوار کی صبح مہرآباد ائرپورٹ سے یوسج شہر کی سمت اڑان بھری تھی ۔ کہا گیا ہے کہ پیر کے دن تلاش کیلئے ہیلی کاپٹرس نے جملہ 60 اڑانیں بھری تھیں لیکن طیارہ کا کوئی پتہ نہیں چل سکا تھا ۔ حادثہ کی تحقیقات کرنے والوں کی ایک ٹیم بھی فرانس سے ایران پہونچی تھی تاہم ان کی آمد کی کوئی توثیق نہیں کی گئی ہے ۔ اس حادثہ کے نتیجہ میں ایران میں شہری ہوابازی کی حفاظت سے متعلق ظاہر کئے جانے والے خدشات کا اعادہ ہوا ہے ۔ اسیمان ائر لائینس کو یوروپین کمیشن نے ڈسمبر 2016 میں بلیک لسٹ کیا تھا ۔ ایران کی شکایت ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی تحدیدات اور پابندیوں کی وجہ سے اس کی ائرلائینس کی حفاظت غیر یقینی ہوگئی ہے اور اس کیلئے طیاروں کی دیکھ بھال اور انہیں عصری بنانا مشکل ہوگیا ہے ۔ اسیمان ائرلائینس کو تحدیدات کے دوران اپنے کئی طیاروں کو خدمات سے علیحدہ کرنا پڑا تھا ۔ اتوار کی صبح اس ائرلائینس کا طیارہ حادثہ کا شکار ہوا تھا ۔ ابتداء میں اس کے لاپتہ ہونے کی توثیق کی گئی تھی اور بعد میں حادثہ کی اطلاع دی گئی ۔ اس طیارہ میں 60 مسافرین اور عملہ کے 6 ارکان سوار تھے اور حادثہ میں کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT