Saturday , September 22 2018
Home / دنیا / ایران میں دو ہفتوں میں 40 افراد کو سزائے موت

ایران میں دو ہفتوں میں 40 افراد کو سزائے موت

لندن ، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایران میں گزشتہ ایک ہفتے میں 33، جبکہ مجموعی طور پر دو ہفتوں میں 40 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے ایران میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو رو

لندن ، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایران میں گزشتہ ایک ہفتے میں 33، جبکہ مجموعی طور پر دو ہفتوں میں 40 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے ایران میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لندن میں ’وائس آف امریکہ‘ کو خصوصی انٹرویو میں مشرق وسطیٰ کیلئے ادارے کی معاون سربراہ حسیبہ صحرائی نے کہا کہ ایران دنیا بھر میں اپنے تشخص کو بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

’’لیکن سزائے موت پر عمل درآمد میں تیزی سے اضافہ، ایرانی حکومت کیلئے کوئی مثبت پیغام نہیں دیتا‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’انٹرنیشنل کمیونٹی ایران کے ایٹمی پروگرام پر حالیہ مذاکرات کو تو خوش آئند قرار دے رہی ہے، لیکن دوسری طرف ایران میں انسانی حقوق کی پامالی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جو حقوق انسانی کی تنظیموں کیلئے تشویش کا باعث ہے‘‘۔ ایمنسٹی نے کل جاری کردہ اپنے تفصیلی بیان میں سزائے موت کو ’ظلم اور حقوق انسانی کے منافی‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی حکومت سے سزائے موت فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حسیبہ صحرائی کے مطابق ’’جن قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا، ان میں سے اکثریت کا منصفانہ ٹرائل ہی نہیں ہوا‘‘۔ اُن کے بقول، ’’بند دروازوں کے پیچھے، انقلابی عدالتوں میں ہونے والے ان ٹرائلز میں ملزمان کو اپنی صفائی کے پورے مواقع نہیں دیئے جاتے‘‘۔

تھائی لینڈ: مظاہرین کے قریب دھماکہ، 31 زخمی
بنکاک، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں جمعہ کو حکومت مخالف مظاہرین کے مارچ کے دوران ایک دھماکے سے کم ازکم 31 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ دوپہر ایک بجے کے قریب پیش آیا جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تاحال دھماکے کی نوعیت کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں دھماکے کی جگہ پر لوگوں کو زخمی حالت میں دکھایا گیا جنہیں ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران فائرنگ کے بھی متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ اپوزیشن نے نگران وزیراعظم ینگ لک شیناواترا سے انتخابات سے قبل مستعفی ہونے اور ایک غیر منتخب ’’پیپلز کونسل‘‘ تشکیل دینے کا مطالبہ کر رکھا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT