Saturday , December 15 2018

ایران میں دہشت گرد حملہ ،تین ہلاک، سات زخمی

تہران، 6 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے جنوب۔ مغربی بندرگاہی شہر چاہ بہار میں جمعرات کو دہشت گردانہ حملے میں تین لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے ۔مقامی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آج علی الصبح چاہ بہار میں ایک دھماکے کے بعد فائرنگ ہوئی جس کی وجہ سے تین افراد مارے گئے اور سات دیگر زخمی ہوگئے ۔دی پریس ٹی وی نے سلامتی سے جڑے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ خیز مادہ کار میں رکھا ہوا تھا۔ چاہ بہار شہر کے گورنر رحم دل بمیری نے قبل ازیں کہا تھا کہ چار افراد ہلاک ہوئے اور دیگر کی زخمی ہیں جبکہ خودکش بم بردار نے اپنی کار دھماکہ سے اڑا دی۔ تاہم بعدازاں اس میں ترمیم کرکے ہلاکتوں کی تعداد دو ظاہر کی۔ یہ دھماکہ بہت طاقتور تھا جس سے کئی قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے چکناچور ہوگئے۔ بمیری نے ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قریبی دکانداروں اور راہگیروں نے بشمول خواتین و اطفال شدید زخمی ہونے کی شکایت کی ہے۔ چاہ بہار پاکستان کی سرحد سے مغریب میں تقریباً 100 کیلو میٹر (60 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے اور یہاں کثیر تعداد میں سنی مسلم نسل کے بلوچی برادری کے لوگ مقیم ہیں۔ یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا کام کرتا ہے۔ حملہ آوروں کی تعداد فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔ دہشت گردوں نے چاہ بہار پولیس ہیڈکوارٹرس میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی لیکن چوکیداروں نے انہیں روک دیا جس کے بعد انہوں نے کار بم دھماکہ کیا۔ مراٹھی میں واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے حملہ آوروں کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔ چاہ بہار خلیج عمان میں ایک گہرے پانی کی بندرگاہ ہے جسے ایران نے ہندوستان کی امداد سے ایک بڑے برقی توانائی اور حمل و نقل کے مرکز کی حیثیت سے فروغ دیا ہے۔ وسط ایشیاء اور ہندوستان کے درمیان اسی راستہ سے تجارت ہوا کرتی ہے اور پاکستان کے راستہ سے گریز کیا جاتا ہے۔ چاہ بہار ایران کے صوبہ سیستان ۔ بلوچستان میں واقع ہے جو عرصہ سے شورش کا مرکز بنا رہا ہے۔ یہاں پر مقیم پاکستانی نژاد بلوچی علحدگی پسند اور سنی مسلم انتہاء پسند سرحدپار حملہ شیعہ اقلیتوں پر کیا کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT