Tuesday , December 11 2018

ایران میں منشیات قوانین میں ترمیم

اک اشارہ ہے یہ تعمیر نشیمن کیلئے
برق خود میرے مقابل کبھی ایسی تو نہ تھی
ایران میں منشیات قوانین میں ترمیم
انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم تنظیموں کو ایران کے منشیات قوانین میں ترمیم اور سزائے موت کے فیصلوں کو مؤخر کردینے کے اقدام سے راحت ملی ہے۔ عالمی سطح پر ایران کے مجوزہ منشیات قوانین ترمیم کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ ایران نے نئے قوانین کے تحت منشیات سے متعلق بعض جرائم میں سزائے موت ختم کردی ہے۔ اب سزائے موت صرف بدعنوان افراد کے لئے برقرار رکھی جائے گی۔ برسوں سے سخت ترین قوانین پر عمل کرنے سے ہزاروں افراد کو پھانسی دی جاتی رہی ہے جس کو عالمی سطح پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی کہا جاتا رہا ہے۔ ساری دنیا میں جرائم پر قابو پانے کیلئے مختلف قوانین اور طور طریقہ رائج ہیں مگر بین الاقوامی قوانین کے تحت سزائے موت صرف سنگین جرم پر ہی دی جانے کی وکالت کی گئی ہے۔ اب ایران میں اپنے قوانین میں نرمی لاکر انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے والے ملکوں کی صف میں شامل ہورہا ہے تو یہ ایک اچھی تبدیلی ہے۔ منشیات سے مربوط جرائم کے لئے سزائے موت کا عمل روک دینا ہی ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ چونکہ ایران میں اس وقت منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد پر سزائے موت لازم تھی جس سے تقریباً 5000 افراد کو سزائے موت دی جانے والی تھی لیکن اپنے قوانین میں ترمیم سے ان 5000 افراد کو زندگی نصیب ہوگئی۔ ایران کے اسلامی شرعی قوانین میں سزائے موت ان مجرمین کو دی جاتی ہے جو قتل، عصمت ریزی، بچوں کا جنسی استحصال، بدفعلی اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث پائے جاتے ہیں لیکن ایران پر اس کے سخت قوانین کے سلسلہ میں عالمی سطح پر شدید دباؤ بھی بڑھ رہا تھا۔ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ ایران کی عدلیہ میں سخت گیر فکر کے حامل افراد کا غلبہ ہے۔ اس کے باوجود عدلیہ نے سزائے موت کے قوانین میں ترمیم کی ہے تو یہ اہم تبدیلی ہے۔ ویسے ایران میں حالیہ برسوں میں برسرعام پھانسی دینے کی شرح میں 42 فیصد تک کمی آئی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران میں 2016ء کے دوران دی گئی سزائے موت کی تعداد 567 بتائی ہے جبکہ گذشتہ برس 977 افراد کو پھانسی ہوئی تھی۔ اب منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث صرف ان افراد کو سزائے موت دی جائے گی جو 50 کیلو گرام سے زائد نارکوٹیک جیسے افیون کی اسمگلنگ کریں گے۔ ہیروئن کی اسمگلنگ کی مقدار 2 کیلو گرام سے زائد پر سزا ہوگی۔ اس نئے اقدامات سے ایران کے ڈرگ کنٹرول ہیڈکوارٹرس نے تشویش بھی ظاہر کی ہے کہ اب ان کے ملک میں منشیات کا چلن عام ہوگا، جہاں بیروزگار نوجوانوں کی شرح زائد از 40 فیصد ہے۔ ایران کو اس ترمیمی اقدامات کے بعد رونما ہونے والے واقعات سے نمٹنے کے لئے بھی تیار رہنا پڑے گا کیونکہ ایران میں پہلے ہی سے گرتے ہوئے معیار زندگی اور رشوت ستانی کے بڑھتے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ایران کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے دیگر ملکوں کے لئے بھی ڈرگس قوانین میں ترمیم کا فیصلہ ایک بہتر شروعات متصور ہوگی۔ لہٰذا حکومت ایران اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہیکہ وہ اپنی سیکوریٹی پالیسیوں اور عوام کی زندگیوں کے معیار کو بہتر بنانے کی غرض سے کئے جانے والے اقدامات کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں تاکہ ایران کے خلاف بارش کرنے والی طاقتوں کو اس نرم پالیسی کا فائدہ اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ حکومت کو یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ایران میں منشیات کے کاروبار میں اضافہ کیوں ہورہا ہے اور عوام کی معیار زندگی کے مسئلہ پر لوگوں کا سڑکوں پر نکل آنا ایک اچھی علامت نہیں ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ سے نمٹنے کے لئے صدر حسن روحانی کو اپنی معاشی پالیسیوں میں بھی کچھ بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ ایران بھی تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے مگر ایرانی معیشت کے دیگر شعبہ مشکل میں بتائے جاتے ہیں جن کا انحصار تیل پر نہیں ہے۔ حکومت نے بیروزگاری کی شرح کو غلط قرار دیا ہے لیکن ایران کے موجودہ حالات اور سڑکوں پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے واضح ہوتا ہیکہ ایرانی نوجوانوں میں بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور ایسے میں منشیات قوانین میں ترمیم سے متعلقہ محکموں کے عہدیداروں نے جو تشویش ظاہر کی ہے اس پر غور کرنا صدر حسن روحانی اور ان کی ٹیم کی ذمہ داری ہے۔
افراط زر کی شرح میں اضافہ
ہندوستان کی معاشی ترقی پر افراط زر نے ضرب لگائی ہے۔ گذشتہ 17 ماہ کے مقابل جاریہ 3 ماہ کے دوران مہنگائی میں شدید اضافہ دیکاھ گیا۔ سنٹرل اسٹائسٹکس آفس (CSO) کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق افراط زر میں ڈسمبر میں 4.96 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جبکہ اس سے قبل نومبر میں افراط زر کی شرح 4.42 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مارکٹ میں ترکاری، دالیں اور کھانے کی دیگر اشیاء میں بتدریج اضافہ نے متوسط اور غریب طبقہ کے افراد کے ماہانہ بجٹ پر منفی اثر ڈالا ہے۔ انڈے، ترکاریوں اور میوے جات مہنگے دستیاب ہورہے ہیں جبکہ دالوں اور اناج میں افراط زر کی شرح متوازن بتائی گئی ہے۔ آئندہ ماہ یکم ؍ فبروری کو وزیرفینانس ارون جیٹلی سالانہ بجٹ 2018-19ء کو پیش کرنے والے ہیں لیکن ان کے بجٹ سے عوام کو خاص توقع نہیں ہے کیونکہ معاشی پیداوار کی شرح اس سال 6.5 فیصد بتائی گئی ہے جبکہ گذشتہ سال یہی شرح 7.1 فیصد ظاہر کی گئی تھی۔ گذشتہ نومبر 2016ء کو نوٹ بندی کے فیصلے اور یکم ؍ جولائی 2017ء سے جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ملک کی معیشت پر کاری ضرب پڑی ہے۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی شرح کو اطمینان بخش ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیرصنعت و کامرس سریش پربھو نے تو معاشی سرگرمیوں میں زبردست اچھال آنے کی قیاس آرائی کرکے ماہرین معاشیات کو حیران کردیا ہے۔ اسی طرح حکومت اور اس کے وزراء ایک جھوٹ کے سہارے حکومت کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں یہ حکومت معاشی اصلاحات کا عمل شروع کرچکی ہے مگر اس کے نتائج توقع کے مطابق نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT