Friday , June 22 2018
Home / ایران نیوکلیئر پروگرام ، اوباما ۔ نیتن یاہو تنازعہ میں شدت

ایران نیوکلیئر پروگرام ، اوباما ۔ نیتن یاہو تنازعہ میں شدت

واشنگٹن ۔ 3 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر امریکہ کے صدر بارک اوباما اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان پیداشدہ تنازعہ اب لفظی جھڑپ ، بحث و تکرار میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ مسٹر اوباما نے وارننگ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اس مسئلہ پر اسرائیلی وزیراعظم نے ماضی میں غلطی کی تھی ۔ امریکی کانگریس سے کلیدی خطاب کے موقع پ

واشنگٹن ۔ 3 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر امریکہ کے صدر بارک اوباما اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان پیداشدہ تنازعہ اب لفظی جھڑپ ، بحث و تکرار میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ مسٹر اوباما نے وارننگ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اس مسئلہ پر اسرائیلی وزیراعظم نے ماضی میں غلطی کی تھی ۔ امریکی کانگریس سے کلیدی خطاب کے موقع پر نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ایرانی نیوکلیئر عزائم کی تخفیف سے متعلق ایران ۔ امریکہ معاملت دراصل اسرائیل کے وجود و بقا کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے لیکن اوبامااور ان کی خارجہ پالیسی کے سرکردہ عہدیداروں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنا جواز درست ثابت کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا اور یہ اصرار کیا کہ سمجھوتہ ہی ایسے تمام مبینہ خطرات پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے ۔ یہ تنازعہ ایک ایسے وقت پیدا ہوا ہے جب نیتن یاہو ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر سمجھوتہ کے خلاف واشنگٹن کے دورہ پر ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس سمجھوتہ کو یقینی بنانے کیلئے جنیوا میں ایرانی ذمہ داروں سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر سمجھوتہ اب ایک ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس پر دو قدیم ترین حلیف امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں زبردست کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا امریکی کانگریس سے خطاب کرنے کا مقصد امریکی صدر براک اوباما کی توہین کرنا نہیں ہے۔انھوں نے امریکی کانگریس سے خطاب سے قبل امریکی اسرائیلی لابی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں رائے کو ہرگز منقسم نہیں کرنا چاہیں گے۔ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دی ہے۔اسرائیلی وزیر کے امریکی کانگریس سے خطاب کی خبر صدر براک اوباما کے سٹیٹ آف یونین خطاب سے ایک روز بعد آئی جس میں امریکی صدر نے کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما اسرائیلی وزیر اعظم سے ان کے دورہ امریکہ کے دوران نہیں ملیں گے کیونکہ یہ ملاقات اسرائیل میں انتخابات کے بہت قریب ہوگی۔امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیرعظم بن یامین نتن یاہو کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت پر نالاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT