Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / ایران نے یورینیم افزودگی شروع کردی ،اسرائیل کی نیندیں حرام

ایران نے یورینیم افزودگی شروع کردی ،اسرائیل کی نیندیں حرام

ایران نیوکلیئر ہتھیار اسرائیل کیخلاف استعمال کرے گا : نیتن یاہو l برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، چین اور روس کا نیوکلیئر معاہدہ سے مربوط رہنے کا عزم

تہران ۔6 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایران نے منگل کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ یورینیم افزودگی کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور نئے سینٹریفیوجس کے ذریعہ افزودگی کی گنجائش میں بھی اضافہ ہوگا ۔ اس بیان نے یوروپی سفارت کاروں کی نیندیں حرام کردی ہیں جو پہلے سے ہی ایران کے نیوکلیئر معاہدہ کو بچانے کیلئے کوشاں ہیں کیونکہ امریکہ اس معاہدہ سے پہلے ہی دستبردار ہوچکا ہے ۔ ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے نائب صدر علی اکبر صالحی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگر حالات ایران کے لئے موافق رہے تو کل رات ناتانز میں ہی نئے سینٹریفیوجس کی کشادگی کا اعلان کیا جائے گا ۔ ہم فی الحال جو بھی کررہے ہیں اُس سے 2015 ء میں کئے گئے نیوکلیئر معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں آئی اے ای اے کو ایک مکتوب بھی تحریر کیا جاچکا ہے جس میں ناتانز میں کچھ سرگرمیوں کے آغاز کے بارے میں اطلاع بھی دی گئی ہے ۔ انھوں نے البتہ یہ وضاحت کردی کہ یہ صرف پیداوار کے عمل کا آغاز ہے جس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سینٹریفیوجس کو جوڑنے کا کام بھی شروع کردیں گے ۔ 2015 ء کے معاہدہ کے مطابق جس پر ایران نے دیگر مغربی ممالک کے ساتھ دستخط کئے تھے ، اُس میں اس نکتہ کی واضح طورپر نشاندہی کی گئی ہے کہ ایران ایڈوانس سینٹریفیوجس کے کل پُرزے تیار کرسکتا ہے اور اُن کی ٹسٹنگ بھی کرسکتا ہے تاہم کس ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا یامعاہدہ کے پہلے دس سال کے دوران کتنی پیداوار کی جائے گی ، اس پر تحدیدات عائد تھیں۔ مسٹر صالحی نے ایک اور بات کہی کہ اس وقت ایران جو کچھ کررہا ہے اُس کا مطلب یہ نہیں کہ یوروپ کے ساتھ ایران کی بات چیت ناکام ہوگئی ہے ۔ یوروپی حکومتیں اس معاہدہ کو ہر ممکنہ طورپر بچانے کی پوری کوشش کررہی ہیں۔ تقریباً سبھی حکومتوں نے امریکہ کے اس طرح معاہدہ سے دستبردار ہونے پر صدر ٹرمپ کو ہدف تنقید بھی بنایا ۔ امریکہ نے تو یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ ایران میں کام کرنے والی بیرونی کمپنیوں پر بھی تحدیدات عائد کی جائیں گی جبکہ مابقی ممالک یعنی برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، چین اور روس نے عزم کر رکھا ہیکہ وہ حال میں ایران نیوکلیئر معاہدہ سے مربوط رہیں گے لیکن فکر اس بات کی ہیکہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والی بیشتر کمپنیوں نے ایران میں اپنی سرگرمیاں آہستہ آہستہ بند کرنا شروع کردیا ہے جو یقینا ایک تشویشناک بات ہے ۔ پیر کے روز ایران کے اعلیٰ ترین رہنما آیت اﷲ علی خامنہ ای نے یوروپ کو انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نیوکلیئر سرگرمیوں پر تحدیدات کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا ۔ امریکہ ’’چِت بھی میری پٹ بھی میری ‘‘ والا کھیل کھیل رہا ہے ۔ نیوکلیئر معاہدہ سے دستبرداری بھی اختیار کرلی اور ایران پر تحدیدات عائد کرنے کا خواب بھی دیکھ رہا ہے ۔ جب آپ کسی بات سے ، معاہدہ سے ، رشتہ سے لاتعلق ہوگئے ہیں تو پھر اُس کی فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ خامنہ ای نے واضح طورپر کہا تھا کہ ایران یورینیم افزودگی عنقریب شروع کرے گا ۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھی شاید بوکھلاہٹ میں یہ بیان دیا ہے کہ اگر ایران یورینیم افزودگی میں اضافہ کرتا ہے تو پھر اسرائیل کے پاس بھی فوجی کارروائی کے سوائے کوئی اور متبادل نہیں ہوگا کیونکہ ایران نیوکلیئر ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT