Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / ایران پر تحدیدات کی برخاستگی سے تیل کی قیمت میں کمی کا امکان

ایران پر تحدیدات کی برخاستگی سے تیل کی قیمت میں کمی کا امکان

تحدیدات کی برخاستگی سے ہندوستان، چین اور برطانیہ کے ایران سے تجارتی تعلقات میں اضافہ

واشنگٹن ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایران پر امریکہ زیرقیادت بین الاقوامی تحدیدات کی برخاستگی سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 10 امریکی ڈالر فی بیارل کی آئندہ سال کمی متوقع ہے۔ عالمی بینک نے آج کہا کہ ہندوستان، چین اور برطانیہ ایران کے ساتھ وسیع تر تجارتی تعلقات قائم کریں گے۔ بین الاقوامی تحدیدات کی برخاستگی کے نتیجہ میں عالمی بینک بھی توقع رکھتا ہیکہ ایران میں معاشی ترقی ہوگی اور شرح ترقی 2016ء میں 5 فیصد ہوجائے گی جو موجودہ سال 3 فیصد ہے۔ عالمی بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر 14 جولائی کو معاہدہ ہوجاتا ہے اور اس کی منظوری حاصل ہوجاتی ہے تو امریکہ اور یوروپی یونین کی ایران پر تحدیدات ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے اعلان کے معاوضہ میں برخاست کردی جائیں گی۔ عالمی بینک کی مشرقی وسطیٰ، شمالی افریقہ شاخ کے سہ ماہی معاشی تفصیلات میں کہا گیا ہیکہ تحدیدات کی ایران پر سے برخاستگی کے معاشی اثرات کے نتیجہ میں ایران زیادہ تیل برآمد کرے گا تاکہ معیشت بحال ہوسکے لیکن رپورٹ میں کم تر درآمدات کی آمدنی اور مالیہ برائے مینا کے دیگر تیل برآمد کنندہ مالک جیسے کہ امریکہ اور لیبیا کے بارے میں تحفظات ظاہر کئے ہیں جبکہ علاقائی تیل برآمد کرنے والے ممالک جیسے کہ مصر اور تیونس کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ پہنچے گا۔ عالمی بینک کے ماہر معاشیات آلہ برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ علاقہ شانتا دیوراجن نے کہا کہ 2012ء میں تحدیدات میں سختی کی وجہ سے ایران کی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی تھی اور 2 سال کی منفی شرح ترقی کے بعد توقع ہیکہ تحدیدات کی برخاستگی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور معیشت بحال ہوجائے گی۔ ایران کی تجارت کے دوران لاگت بھی کم ہوگی۔ اس سے نہ صرف تیل کی مقدار میں بلکہ اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا۔ تیل کے علاوہ دیگر اشیاء کی تجارت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں تخمینہ کیا گیا ہے کہ ایران سے برآمدات میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر مالیتی برآمدات ہوسکتی ہیں جو ایران کی جی ڈی پی کا تقریباً 3.5 فیصد ہوگی۔ برطانیہ، چین، ہندوستان، ترکی اور سعودی عرب وہ ممالک ہیں جو غالب امکان ہیکہ مابعد تحدیدات ایران کے ساتھ تجارت میں وسیع تر اضافہ کریں گے۔ غیرملکی راست سرمایہ کاری میں بھی 3 ارب امریکی ڈالر سالانہ کا اضافہ ہوگا جو موجودہ شرح کا دگنا ہے۔ اس کے باوجود یہ 2003ء کی بنسبت کم ہوگا جبکہ راست غیرملکی سرمایہ کاری عروج پر تھی۔ ایران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کی بناء پر امریکہ کی زیرقیادت یوروپی یونین نے ایران پر سخت تحدیدات عائد کی تھیں۔ ہندوستان کو ادائیگیوں سے روک دیاگیا تھا حالانکہ ایران کا ادعا تھا کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور عدم پھیلاؤ معاہدہ کی شرائط کے مطابق ہے۔

TOPPOPULARRECENT