Saturday , August 18 2018
Home / دنیا / ایران : پولیس اور صوفیاء میں ٹکراؤ : 5 ہلاک

ایران : پولیس اور صوفیاء میں ٹکراؤ : 5 ہلاک

جوابی کارروائی میں پولیس نے 300 سے زیادہ صوفیاء کو گرفتار کیا ، 30 فوج کے جوان زخمی
تہران ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں اسلامی لیڈر کے متبعین اور ایرانی پولیس کے درمیان جھڑپ ہونے کی وجہ سے پانچ سیکوریٹی فورسیس ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے اس کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہیکہ رات کو پیش آئے واقعہ میں تقریباً 300 سے زیادہ صوفیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہیکہ ایرانی صوفی لیڈر نورانی تابندہ کے ماننے والے ان کی حمایت میں ان کے گھر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا تھا۔ صوفی بزرگ کے متبعین اس بات سے پریشان ہیں کہ 1979ء کے ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد ڈپٹی جسٹس منسٹر 90 سالہ نورال تابندہ کو ایرانی پولیس نظربند کرسکتی ہے۔ ان کا یہ خوف گذشتہ مہینے ایران میں ہونے والا احتجاج ہے جس میں پولیس نے تعدد صوفیاء کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا تھا۔ نورانی تابندہ کا لبرل اکٹیوسٹ سے گہرے تعلقات رہے ہیں۔ صوفیوں کے ایک گروہ نے پولیس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے گرفتار شدہ صوفیوں کو رہا کرنے کی مانگ کی۔ اس کے بعد انہوں نے تابندہ کے گھر کے سامنے ریالی نکالی جہاں پر پولیس نے ان کو ہٹانے کی کوشش کی۔ اس سے قبل کی ریالیوں میں ان صوفی مظاہرین کے ہاتھوں میں چاقو اور دیگر دھاردار ہتھیار دیکھے گئے جس کا استعمال انہوں نے پولیس سے جھڑپ میں کرتے رہے ہیں۔ ارنا نیوز ایجنسی نے پولیس ترجمان کے حوالے سے لکھا ہیکہ باسبح فوج کے دو نوجوان بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کار ریمنگ حملے میں 30 سے زیادہ نوجوان ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس نے دونوں گاڑیوں کے ڈرائیوروں سمیت 300 سے زیادہ صوفیا کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ صوفی رہنما تبندہ فی الحال آزاد ہیں۔ پولیس نے متاثر علاقے کے راستوں کو بند کردیا ہے اور علاقے میں سیکوریٹی افراد کی تعداد کو بڑھا دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT