Friday , December 15 2017
Home / دنیا / ایران کا نیوکلیئر معاہدہ پر عمل ’’تاریخ ساز‘‘ کارنامہ

ایران کا نیوکلیئر معاہدہ پر عمل ’’تاریخ ساز‘‘ کارنامہ

اقوام متحدہ کے سربراہ کا ردعمل ‘ سخت جدوجہد کا نتیجہ جشن کے قابل ‘نئی تاریخ تحریر کرنے کا مشورہ  : چین

اقوام متحدہ ۔17جنوری( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون نے آج تاریخ ساز ایران نیوکلیئر معاہدہ پر عمل آوری کو ’’ ایک نمایاں سنگ میل ‘‘ قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اس سے اس علاقہ میں امن ‘ صیانت اور استحکام میں اضافہ ہوگا ۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارہ کے معلنہ بین الاقوامی تحدیدات ایران پر سے برخواست کردی گئی ہیں کیونکہ ایران نے ان ذمہ داریوں کی تکمیل کی ہے جو معاہدہ کے تحت اُس پر عائد ہوتی ہے ۔ یہ معاہدہ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان گذشتہ سال طئے پایا تھا ۔ بانکی مون نے اپنے بیان میں کہا کہ اس تاریخ ساز کارنامہ سے تمام فریقین کی متفقہ ذمہ داریوں کی تکمیل میں نیک نیتی کی عکاسی ہوتی ہے ۔ انہوں نے مشترکہ جامع منصوبہ برائے عمل کے نفاذ کو ایک کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس ‘ جرمنی ‘ برطانیہ ‘ امریکہ ‘ روس ‘ چین اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ ایک سنگ میل تھا ۔

انہوں نے تمام فریقین کی جانب سے ظاہر کردہ خلوص اور پختہ یقین کی ستائش کرتے ہوئے فریقین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس عمل آوری کو آئندہ مہینوں اور سالوں میں بھی جاری رکھیں ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے  متعلقہ فیصلوں کے مطابق عمل آوری کیلئے ہر ممکن مدد کرنے ہر وقت تیار رہے گا ۔ بانکی مون نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون برائے امن ‘ صیانت اور علاقائی استحکام اور اس کے ماورا استحکام میں بین الاقوامی تعاون میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔ اپنے ایک بیان میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارہ  کے ڈائرکٹر جنرل یوکیا امانو نے کہا کہ ’’ عمل آوری کا دن ‘‘ جانچ اور نگرانکاری کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق اس معاہدہ کے تحت تیقنات پر عمل آوری کی جانچ جاری رکھے گا ۔ بانکی مون نے ان اطلاعات کا بھی خیرمقدم کیا کہ کئی امریکیوں کو جو ایران میں زیر حراست ہیں بشمول واشنگٹن پوسٹ کے صحافی کو رہا کردیا جائے گا اور اس کے جواب میں امریکہ کی جانب سے امریکہ میں زیر حراست کئی ایرانیوں کو رہا کیا جائے گا ۔ امریکہ اور بین الاقوامی  برادری کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کے بعد ایران نے حقیقی ‘ قابل مشاہدہ کارروائی کی ہے

جس کی ایران نے چار مرتبہ خلاف ورزی کی تھی ۔ یہ نتیجہ حالیہ برسوں  جیسے دو سال قبل ناممکن سمجھا جاتا تھا جب کہ اس کیلئے مذاکرات کا آغاز ہوا تھا امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ سامنتا پاور نے یہ ردعمل ظاہر کیا ۔ تاہم اسرائیل کے سفیر برائے اقوام متحدہ ڈینی ڈانون نے کہا کہ ایران کے عزائم اب بھی نیوکلئیر ہتھیاروں کا حصول ہے ۔ بین الاقوامی برادری کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارہ کی رپورٹ سے پُرامید ہوکر اندھا نہیں بن جانا چاہیئے ۔ بیجنگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب چین نے آج ایرانی معاہدہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سخت محنت کا حاصل قرار دیا اور کہاکہ معاہدہ کے نتیجہ میں ایران پر عائد تحدیدات کی برخواستگی جشن منانے کے قابل کارنامہ ہے ۔ وزیر خارجہ چین وانگ ای نے کہا کہ نفاذ کا دن ایک ٹھوس قدم ہے جو قطعی سیاسی و سفارتی تصفیہ کی جانب اٹھایا گیا ہے ۔ اس سے ایران کے نیوکلیئر مسئلہ کی یکسوئی ہوجائے گی ۔ وانگ کا یہ تبصرہ یوروپی یونین اور ایران کی جانب سے کل مشترکہ طور پر ’’ یوم عمل آوری ‘‘ کے اعلان کے بعد منظر عام پر آیا ۔ مشترکہ جامع منصوبہ برائے عمل تاریخی نیوکلئیر معاہدہ کا تسلسل ہے جو جولائی میں طئے پایا تھا ۔ کل صدر امریکہ بارک اوباما نے انتظامیہ کے ایک حکم پر دستخط کردیئے تاکہ ایران پر سے اُس کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق تحدیدات برخواست کردی جائیں ۔ اقوام متحدہ کے نیوکلئیر ادارہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس نے ایران کی نیوکلئیر تنصیبات کا جائزہ لیا ہے اور تمام اقدامات کئے جاچکے ہیں تاکہ دنیا کے اندیشوں کا ایران کے نیوکلیئر منصوبہ کے بارے میں ازالہ کیا جاسکے ۔ اس نے بیشتر نیوکلئیر مادوں کی پیداوار منجمد کردینا بھی شامل ہیں جو نیوکلئیر بم کی تیاری میں استعمال کئے جاسکتے تھے ۔ تمام فریقین نے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے سے اپنی اٹوٹ وابستگی کا ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں تمام فریقین سے کہا کہ وہ سنجیدگی سے اس معاہدہ پر عمل آوری آئندہ دہائیوں میں بھی جاری رکھتے ہوئے نئی تاریخ لکھنا چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT