Wednesday , December 12 2018

ایران کو راست طور پر مکتوب تحریر کرنا اوباما کے اختیارات کی توہین

واشنگٹن 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی میڈیا نے اُن 47 ری پبلکن سنیٹرس کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنھوں نے ایرانی قیادت کو ایک ’’کھلا مکتوب‘‘ تحریر کیا تھا جو دراصل ایران کی امریکہ کے ساتھ نیوکلیر توانائی کے موضوع پر جاری بات چیت کو نشانہ بناتے ہوئے تحریر کیا گیا تھا۔ ایک امریکی اخبار نے تو اس اقدام کو (مکتوب تحریر کرنے) صدر ا

واشنگٹن 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی میڈیا نے اُن 47 ری پبلکن سنیٹرس کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنھوں نے ایرانی قیادت کو ایک ’’کھلا مکتوب‘‘ تحریر کیا تھا جو دراصل ایران کی امریکہ کے ساتھ نیوکلیر توانائی کے موضوع پر جاری بات چیت کو نشانہ بناتے ہوئے تحریر کیا گیا تھا۔ ایک امریکی اخبار نے تو اس اقدام کو (مکتوب تحریر کرنے) صدر امریکہ بارک اوباما کے اختیارات کو نیچا دکھانے سے تعبیر کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ مکتوب تحریر کرنے کا مقصد دراصل ایرانی قیادت کو نیوکلیر معاہدہ کرنے سے خوفزدہ کرنا ہے تاکہ وہ ایسا کرنے سے باز رہیں جس کے تحت ایران کو آئندہ دس سال تک اپنے نیوکلیر پروگرام کا سلسلہ بند کرنا ہے۔ سنیٹرس کے مکتوب میں انتباہ دیا گیا ہے کہ امریکہ میں جب نئے صدر کا انتخاب ہوگا تو وہ ایسے کسی بھی معاہدہ کو مسترد کردیں گے۔ ملک کی سلامتی کے انتہائی حساس معاملہ پر صدر اوباما کے اختیارات کو بے معنی کرتے ہوئے راست طور پر ایرانی قیادت کو مکتوب تحریر کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ 47 سنیٹرس نے مکتوب میں تحریر کیا تھا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ کوئی بھی نیوکلیر معاہدہ بارک اوباما کی میعاد حکومت کے بعد کسی کام کا نہیں رہے گا۔ وائیٹ ہاؤز نے بھی مکتوب تحریر کرنے کے عمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہاکہ اس کی وجہ سے چھ عالمی طاقتوں امریکہ، فرانس، جرمنی، برطانیہ، روس اور چین نے ایران کو نیوکلیر توانائی کا حامل ملک بننے سے روکنے کے لئے جو کوششیں جاری رکھی ہیں، سنیٹرس کے مکتوب نے اُن کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT