Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ایران کیخلاف بالسٹک میزائیل سے مربوط نئی امریکی تحدیدات

ایران کیخلاف بالسٹک میزائیل سے مربوط نئی امریکی تحدیدات

Iranian President Hassan Rouhani attends a news conference in Tehran, Iran, Sunday, Jan. 17, 2016. The implementation of a historic nuclear deal with world powers is expected to pave the way for a new economic reality in Iran, now freed from harsh international sanctions. On Sunday Rouhani presented parliament with a draft budget that plans for an economic windfall even as it reduces reliance on oil revenues. (AP Photo/Ebrahim Noroozi)

نیوکلیر پروگرام سے متعلق پابندیاں برخواست کرتے ہی فوری اقدام، ہر عمل کا جوابی ردعمل ہوگا:حسن روحانی
واشنگٹن/ ایران ۔ /17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج ایران پر بالسٹک میزائیل پروگرام سے مربوط نئی تحدیدات کا اعلان کیا ہے حالانکہ ایک دن قبل ہی اس کے نیوکلیر پروگرام سے مربوط تحدیدات کو ختم کردیا گیا ہے ۔ امریکہ کے اس اعلان کے فوری بعد صدر ایران حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کی کسی بھی نئی تحدیدات کا موثر جواب دیا جائے گا ۔ امریکی ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے 5 ایرانی  شہریوں اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور چین میں موجود کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک کو بھی بلیک  لسٹ میں شامل کیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے کمپنیوں کے نام کا استعمال کرتے ہوئے حساس میزائیل آلات کے پھیلاؤ میں نمایاں رول ادا کیا جبکہ 5 انفرادی افراد نے ایران کیلئے بالسٹک میزائیل آلات کے حصول میں رول ادا کیا ۔ کارگزار انڈر سکریٹری برائے دہشت گردی و مالیاتی انٹلیجنس ایڈم جے زوبین نے کہا کہ ایران کا بالسٹک میزائیل پروگرام علاقائی اور عالمی سکیورٹی کیلئے خطرہ بن چکا ہے ۔ چنانچہ ایران کے خلاف بین الاقوامی تحدیدات جاری رہیں گی ۔ حسن روحانی نے امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا اعلان کرنے کے تقریباً 90 منٹ بعد تہران میںنیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نئی تحدیدات عائد کرتا ہے یا نیوکلیر معاہدہ کے قواعد کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو کیا ہوگا ؟ انہوں نے کہا کہ ہر عمل کا ردعمل ہوگا ۔ اگر امریکہ ہمارے خلاف تحدیدات عائد کرتا ہے تو اسے بھی وہی انداز میں جواب دیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ امریکہ اور یوروپی یونین نے ایران کے خلاف عائد تیل اور مالیاتی پابندیوں کو برخواست کردیا تھا اس کے علاوہ ایران کے 100 ارب امریکی ڈالر مالیاتی ضبط شدہ اثاثہ جات بھی بحال کردیئے تھے ۔ عالمی طاقتوں نے ایران کی نیوکلیر عزائم سے دستبرداری اور شرائط کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔صدر ایران حسن روحانی نے اس پیشرفت پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا تھا ۔

 

ایران کیخلاف امریکہ و یوروپی یونین کے تحدیدات برخاست

100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال، نیوکلیئر عزائم سے دستبرداری اور شرائط کی تکمیل پر عالمی طاقتیں مطمئن

واشنگٹن/ویانا۔17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور یوروپی یونین نے ایران کے خلاف عائد تیل اور مالیاتی پابندیوں کو آج اٹھالیا اور اس (ایران) کے 100 ارب امریکی ڈالر مالیتی ضبط شدہ اثاثے جاری کردیئے گئے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایران نے اس کے نیوکلیئر عزائم کی سرکوبی کے لئے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ تاریخی سمجھوتہ کی مکمل پابندی کی ہے جس کے بعد ہی اس کے خلاف تیل کی برآمدات اور مالیاتی پابندیوں کو برخاست کرتے ہوئے اس کے 100 ارب امریکی ڈالر مالیتی ضبط شدہ اثاثے واپس کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس پیشرفت پر امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ’’آج کا دن ایک محفوظ دنیا کی اہمیت رکھتا ہے۔‘‘ کیری نے ویانا میں کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارہ (آئی اے ای اے) نے توثیق کی ہے کہ ایران نے اپنے وعدوں کی تکمیل کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’ایران نے گزشتہ دو سال کے دوران وہ تمام اقدامات کئے ہیں جن کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج وہ لمحہ بھی آیا کہ ایران کے ساتھ طے شدہ معاملت پر عزم کاغذی وعدوں سے آگئے بڑھ کر عملی اقدام میں تبدیل ہوگیا۔ ‘‘ ایران کے خلاف ایشیائی سخت تحدیدات کی برخاستگی کا اعلان کرتے ہوئے کیری نے کہا کہ تحدیدات کی برخاستگی سے متعلق امریکی وعدوں پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اپنے قیدیوں کے تبادلے کے چند گھنٹوں بعد جان کیری نے یہ بیان جاری کیا۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے اس پیشرفت  پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایرانیوں نے ماضی کی دشمنی، شک، شبہات اور سازشوں کو پیچھے چھوڑ کر دوستی کی ایک نئی علامت کے ساتھ ماباقی دنیا تک پہونچے ہیں۔ جس سے ایران اور ماباقی دنیا کے مابین تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ ایران سرکاری خبررساں ادارہ ارنانے حسن روحانی کے حوالہ سے کہا کہ ’’مشترکہ جامع منصوبہ عمل کو روبعمل لانے سے کسی ملک کو کوئی نقصان نہیں پہونچے گا۔‘‘ صدر روحانی نے مزید کہا کہ ’’ایران کے دوست خوش ہیں اور اس سے مسابقت کرنے والوں کو کسی بات پر پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کسی حکومت یا قوم کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ ہم اس علاقہ اور ساری دنیا میں امن، استحکام اور سلامتی کے پیامبر ہیں۔‘‘ عالمی طاقتوں امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی کے ساتھ ایران نے گزشتہ سال جولائی میں یہ سمجھوتہ طے کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT