Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / ایران کیساتھ نیوکلیئر معاہدہ کی تنسیخ پر مغرب کف ِافسوس ملے گا : حسن روحانی

ایران کیساتھ نیوکلیئر معاہدہ کی تنسیخ پر مغرب کف ِافسوس ملے گا : حسن روحانی

٭ نیوکلیئر معاہدہ کی سب سے زیادہ خلاف ورزی امریکہ اور یوروپینس نے کی ہے : جواد ظریف
٭ وزیر خارجہ فرانس کا دورۂ ایران کے دوران ایران کو نیوکلیئر ٹسٹس ترک کرنے کی اپیل، میں ڈونالڈ ٹرمپ کا قاصد نہیں

تہران۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صدر ایران حسن روحانی نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کیا گیا نیوکلیئر معاہدہ کالعدم قرار دیا گیا تو معاہدہ سے وابستہ تمام ممالک کو پچھتانا پرے گا تاہم ایران کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے تیار ہے۔ دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ نے آج شائع ہوئے ایک انٹرویو میں یوروپی یونین کو اس کی انتہا پسندی کیلئے زبردست تنقیدوں کا نشانہ بنایا جبکہ موصوف اپنے فرانسیسی ہم منصب سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ محمد جواد ظرف نے اصلاح پسند اخبار ’’اعتماد‘‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران نیوکلیئر معاہدہ میں امریکہ کو برقرار رکھنے کے لئے یوروپی یونین ممالک نے انتتہا پسندوں کا شکار ہورہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یوروپ کی پالیسی کوئی وقعت باقی نہیں رہ جائے گی۔ فرانس کے وزیر حارجہ جین لیس لی ڈرائن پیر کو بات چیت کے لئے ایران پہنچے ہیں۔ یاد رہے کہ 2015ء میں ایران کے ساتھ مغربی ممالک نے جس نیوکلیئر معاہدہ پر دستخط کئے تھے، ان دستحط کنندہ ممالک میں سے فرانس ایک ایسا ملک ہے، جس کے وزیر خارجہ ایران کا دورہ کررہے ہیں۔ جبکہ قبل ازیں ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجہ میں کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ کئے گئے نیوکلیئر معاہدہ میں بہتری پیدا نہیں کی گئی تو امریکہ معاہدہ سے دستبردار ہوجائے گا

تاہم جواد ظریف نے اپنے انٹرویو میں یہ واضح انتباہ دیا ہے کہ ایک ایسے ملک کو مطمئن کرنے سے جس نے نیوکلیئر معاہدہ کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کی ہے ، کوئی کارروائی بے معنی ہوگا۔ موجودہ طور پر ایسے دو ممالک ہیں جنہوں نے نیوکلیئر معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ ہیں امریکہ اور یوروپینس۔ امریکہ نے خلاف ورزی اپنی پالیسیوں کی وجہ سے کی ہے اور یوروپینس نے یہ خلاف ورزی امریکی پالیسی کی وجہ سے کی ہے۔ اگر ہم اس کا بغور جائزہ لیں تو پتہ چلا گا کہ یوروپینس نے امریکی پالیسی کی وجہ سے امریکہ کی توقعات پر ناکامی کا سامنا کیا خصوصی طور پر بینکنگ شعبہ میں۔ لہذا یہ دونوں ممالک اس وقت ایسے موقف میں نہیں ہیں کہ وہ ایک ایسے ملک کے خلاف شرائط عائد کریں جس نے اپنے وعدوں کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنایا۔ جواد ظریف نے اس موقع پر یوروپی ممالک بشمول فرانس اور برطانیہ کو ان کی (دونوں ممالک) ’’فاش غلطیوں‘‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا اشارہ علاقائی حریف ملک سعودی عرب کی تائید کرنے کی جانب تھا کیونکہ سعودی عرب، یمن میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں ایک متحدہ محاذ کی قیادت کررہا ہے۔ لی ڈرائن کی ٹیم نے ایران سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ’’ڈونالڈ ٹرمپ کے قاصد‘‘ نہیں ہیں اور اس بات کے خواہاں ہے کہ ایران کے ساتھ مغربی ممالک کا جو نیوکلیئر معاہدہ ہوا ہے، اسے بہرصورت برقرار رکھا جاسکے تاہم فرانس میں اعلیٰ سطحی سفارت کار سمجھے جانے والے لی ڈرائن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے بالسٹک میزائلس کی ٹسٹنگ کا سلسلہ جب تک مسدود نہیں ہوجاتا، اس وقت تک ایران پر شک و شبہ کیا جاتا رہے گا کیونکہ مغرب کا یہ شبہ دور کرنا مشکل ہی ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار سازی کرنا چاہتا ہے لہذا ایران کے ارادے اگر ٹھیک ہیں تو اسے سب سے پہلے یہ کام کرنا چاہئے کہ تمام ممالک کے شبہ کو دور کردے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ایران پر عرصہ دراز سے نیوکلیئر ہتھیار سازی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ جس کی اس نے ہمیشہ یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ ایران پرامن مقاصد کے لئے نیوکلیئر توانائی کا حامل ملک بننا چاہتا ہے جبکہ بالسٹک میزائلس کی تیاری ایران صرف اپنے دفاع کیلئے کررہا ہے ناکہ کسی ملک پر حملہ کرنے کیلئے۔ یاد رہے کہ جنوری 2017ء میں ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد ایران کے ساتھ کئے گئے نیوکلیئر معاہدہ کو لے کر مغربی ممالک میں شبہات میں اضافہ ہوگیا ہے اور ایران کے لئے ہر دن یہ مشکل ہوتا جارہا ہے کہ وہ انہیں کس طرح مطمئن کرے۔

TOPPOPULARRECENT