Monday , June 18 2018
Home / عرب دنیا / ایران کیلئے نیو کلیئر معاہدہ میں ہنوز متعدد رکاوٹیں

ایران کیلئے نیو کلیئر معاہدہ میں ہنوز متعدد رکاوٹیں

تہران 2فبروری (سیاست ڈاٹ کام )تہران میں عوام کا ایک گروپ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان نیو کلیر معاہدہ ہوچکا ہے جبکہ دوسرا گروپ اس بات پر اٹل ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا تاہم ایران کے نیو کلیئر پروگرام پر بات چیت کا جو سلسلہ گذشتہ 12 سال سے لیت و لعل میں پڑا ہوا ہے بالکل اسی طرح تنازعہ نیو کلیئر

تہران 2فبروری (سیاست ڈاٹ کام )تہران میں عوام کا ایک گروپ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان نیو کلیر معاہدہ ہوچکا ہے جبکہ دوسرا گروپ اس بات پر اٹل ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا تاہم ایران کے نیو کلیئر پروگرام پر بات چیت کا جو سلسلہ گذشتہ 12 سال سے لیت و لعل میں پڑا ہوا ہے بالکل اسی طرح تنازعہ نیو کلیئر پروگرام کو قطعیت دینے کی راہ میں بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ دوسری طرف واشنگٹن میں قانون ساز ایران پر نئی تحدیدات عائد کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں جبکہ وائیٹ ہاوس نے اپنا موقف واضح کردیا ہیکہ ایران کو بات چیت کیلئے مزید وقت دیاجائے۔ایران کے سخت گیر ایم پیز خود بھی ایسے دو بلز تیار کررہے ہیں جن کے تحت ایران کی دیگر مغربی ممالک کے ساتھ نیو کلیئر بات چیت مزید التواء کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس پورے معاملہ کا تجزیہ کرنے والوں کے مطابق حالات انتہائی پیچیدہ اور مشکل ہیں وہیں ایران کی یورانیم افزودگی کی سطح اور تحدیدات برخواست کرنے کا نظام العمل دراصل معاہدہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ دریں اثناء یوروپی کونسل میں بیرونی ممالک سے تعلقات پر امور ایران کے ماہر سمجھے جانے والے ایلائٹ چیر مایہ نے بتایا کہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارت کاری کی مخالفت کرنے والے اس عمل کے خاتمہ کے خواہاں ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ ایران نیو کلیئر پروگرام صرف اپنے دفاع کیلئے کررہاہے اور یہ بات وہ اپنے مغربی حلیفوں اور حریفوں کو ایک عرصہ سے بتاتاا ٓرہا ہے لیکن کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے اور وہ ایران کو مسلسل شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔ ایران اور خصوصی طور پر امریکہ میں عرصہ دراز سے آنکھ مچولی جاری ہے جہاں ایران اپنا دفاع کرتا ہے اور امریکہ اپنا موقف درست بتاتا ہے ۔ اس سلسلہ میں اب امریکہ کے دو سینیٹرس ری پبلکن کے مارک کر ک اور ڈیموکریٹ رابرٹ مینڈیز نے کہا کہ 24 مارچ تک یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ نئی قانون سازی کے لئے بل پیش کئے جائیں یا نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT