Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / امریکہ کا پاکستان سے نیوکلیئر میزائیل پروگرام مسدود کرنے کا مطالبہ

امریکہ کا پاکستان سے نیوکلیئر میزائیل پروگرام مسدود کرنے کا مطالبہ

ہندوستان سے بہتر تعلقات کیلئے پاکستان سنجیدہ نہیں : امریکی قانون ساز

ایران کے بعد اب پاکستان کی باری

واشنگٹن۔ 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو مسدود کروانے کے بعد امریکہ نے اب اپنی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کی ہے کیونکہ پاکستان سے بھی اب یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے نیوکلیئر اور میزائل پروگرامس کو مسدود کردے جس کے لئے وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس سے نیوکلیئر تحفظ اور حکمت عملی سے منسلک استحکام کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کیلئے خصوصی نمائندہ رچرڈ اولسن نے پاکستان کی جانب سے منعقدہ ہاؤس فارین افیرس کمیٹی کے اجلاس میں قانونی سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی نیوکلیر سرگرمیوں پر ان کی (امریکہ اور قانون سازوں) تشویش سے بخوبی واقف ہیں اور خصوصی طور پر پاکستان نے اپنے میزائل پروگرام میں جس تیزی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ مزید تشویشناک ہے اور اس طرح جنوب مغربی ایشیا میں سکیورٹی کیلئے چیلنجس پیدا ہوجائیں گے، جن سے نمٹنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم نے پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کئے ہیں جہاں ہم نے اپنی تشویش سے پاکستانی حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

کانگریس مین برائن ہگنس کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹر اولسن نے یہ بات کہی اور بتایا کہ امریکہ نے پاکستان سے وضاحت کردی ہے کہ وہ اپنے نیوکلیئر اور میزائیل پروگرام کو مسدود کردیئے جیسا کہ ہم نے نیوکلیئر توانائی کے حامل ہر ملک سے درخواست کی ہے۔ پاکستان سے یہ درخواست کرنے کا مطلب واضح ہے کہ امریکہ اس خطہ میں کوئی نیوکلیئر عدم تحفظ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس سے نیوکلیئر ہتھیاروں کی کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہورہا ہے، پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام سے اسے تقویت ملے گی۔ ان کا اشارہ دولت اسلامیہ کی خونریز کارروائیوں کی جانب تھا۔ انہوں نے البتہ یہ وضاحت بھی کردی کہ پاکستان کے ساتھ 123 معاہدہ پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی قانون ساز امریکی حکومت سے اس بات کے خواہاں ہیں کہ پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنایا جائے کیونکہ پاکستان، ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور پائیدار امن کیلئے سنجیدہ نہیں ہے بلکہ اپنی نیوکلیئر توانائی میں اضافہ کی جانب زائد توجہ دے رہا ہے جس کے بعد ہی مسٹر اولسن نے مندرجہ بالا تفصیلات بتائیں۔ دوسری طرف مسٹر ہگنس نے ہی یہ بات کہی تھی کہ پاکستان، ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار بنانے میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے بلکہ اپنی بقاء کو لاحق خطرہ کو بنیاد بناتے ہوئے نیوکلیئر ہتھیار سازی کررہا ہے اور کارنیگی انڈومنٹ برائے بین الاقوامی امن کے مطابق آئندہ دس سال میں پاکستان 350 نیوکلیئر وارہیڈس بنانے میں کامیاب ہوجائے گا اور اس طرح پاکستان، دنیا کا تیسرا سب سے بڑا نیوکلیئر توانائی کا حامل ملک بن جائے گا اور تیز رفتاری میں ہندوستان، فرانس، چین اور برطانیہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ بار بار پاکستان کی توجہ ہندوستان سے بہتر تعلقات کی جانب مبذول  کروائی جارہی ہے لیکن پاکستان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ پاکستان اس طرح ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر پاکستان میں اسلامی انتہا پسندوں کا غلبہ ہوا تو یہ امریکہ کیلئے کسی ڈراؤنے خواب کے مترادف ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT