Saturday , December 15 2018

ایران کے تیل پر پابندی سے عالمی بحران کا اندیشہ

بین الاقوامی خبررساں ادارہ آئی اے ای اے کا بیان ‘ چین ۔ ایران تعلقات شفاف ‘ کاروباری اور توانائی شعبوں میں حسب معمول :چین
تہران ۔ 12اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر ایرانی تیل پر پابندی لگائی گئی تو عالمی سطح پر تیل کی مانگ اور سپلائی میں بحران آجائے گا۔دوسری طرف چین کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین اور ایران کے تعلقات شفاف، کاروبار، تجارت اور توانائی کے معمول کے تجارتی تعاون پر مبنی ہیں، ان تعلقات سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں یا چین کے بین الاقوامی وعدوں کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان تعلقات سے کسی دوسرے ملک کے مفادات کو کوئی نقصان پہنچتا ہے، ان تعلقات کا احترام کیا جانا چاہیے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ صرف مذاکرات اور بات چیت ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے، جبکہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے خصوصی قاصد محمود واعظی نے دورہ انقرہ کے دوران گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کی اور صدر حسن روحانی کا خصوصی پیغام پہنچایا، اس موقع پر ایران جوہری معاہدے سے متعلق تازہ ترین معاملات اور نئی امریکی پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا۔قاصدنے کہا کہ ایران پابندیوں کے سامنے اتنی مزاحمت کرے گا کہ امریکا کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہو گا، ترک صدر نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید بڑھانے کیلیے پرعزم ہے، رجب طیب اردغان نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ جلد اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کے امکان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے، ظریف نے واضح طور پر کہا کہ جنرل اسمبلی کے حاشیے میں کسی بھی امریکی اہلکار سے کوئی ملاقات طے نہیں کی گئی ہے۔امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے کم فاصلے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی پابندیوں پر تہران کا جوابی اقدام ہو سکتا ہے، امریکی حکام نے کہا کہ نیول فورس کی مشقوں کے دوران اس طرح کے میزائل کا تجربہ غیرمعمولی ہے۔

TOPPOPULARRECENT