Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / ایرپورٹ کی مسجد عمر فاروقؓ کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ وفا ابھی نہیں ہوا

ایرپورٹ کی مسجد عمر فاروقؓ کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ وفا ابھی نہیں ہوا

اسمبلی میں تیقن ، چھ سال بعد بھی پہل نہیں ، مسلمان ٹیکسی اسٹانڈ میں کھلے آسمان کے نیچے نماز ادا کرنے پر مجبور

اسمبلی میں تیقن ، چھ سال بعد بھی پہل نہیں ، مسلمان ٹیکسی اسٹانڈ میں کھلے آسمان کے نیچے نماز ادا کرنے پر مجبور

حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل : شمس آباد ایرپورٹ کی مسجد عمر فاروقؓ کی شہادت کے بارے میں کون نہیں جانتا سال 2004 تک وہاں پنجوقتہ نماز ادا کی جاتی تھی ۔ ایرپورٹ کی تعمیر کے موقع پر مسلمانوں کو یہ تیقن دیا گیا تھا کہ مسجد کو ایرپورٹ کے احاطہ میں شامل کیا جائے گا لیکن 2007 کو مسجد شہید کردی گئی جس میں کچھ سیاسی قائدین نے رول ادا کئے پھر اس پر مگرمچھ کے آنسو بھی بہائے یہاں تک کہ اسمبلی میں اس وقت کی راج شیکھر ریڈی حکومت نے مقامی سیاسی جماعت کو تیقن دیا تھا کہ مسجد اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کی جائے گی لیکن اس تیقن کے تقریبا 6 سال گذر جانے کے باوجود مسجد عمر فاروقؓ کی دوبارہ تعمیر عمل میں نہیں لائی گئی ۔ جمعہ 14 مارچ 2008 کو ایک اخبار میں بھی اس بات کے بلند بانگ دعوے کئے کہ اس جماعت نے مسجد کی دوبارہ تعمیر کا حکومت سے تیقن حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن افسوس کہ اسمبلی میں ایک مسلم وزیر کی جانب سے مسجد کی دوبارہ تعمیر کا تیقن دینے کے باوجود مسجد کی تعمیر تو دور کی بات ہے ایرپورٹ کے باہر ٹیکسی اسٹانڈ کے قریب تک مسلمانوں کے نماز ادا کرنے میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ۔ خاص طور پر نماز جمعہ کے موقع پر 200 تا 300 مسلمان وہاں نماز ادا کرتے ہیں جن میں مسافرین ملازمین اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی کثیر تعداد شامل رہتی ہے اس کے باوجود اس مقام پر کوئی سائبان ڈالنے یا شامیانہ نصب کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ سوال یہ ہے کہ کانگریسی حکومت کے اس وعدہ کا کیا ہوا ؟ جی ایم آر گروپ آخر مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا معاندانہ اور متعصب رویہ اختیار کیوں کررہا ہے ؟ درگاہ حضرت بابا شرف الدین سہروردیؒ کی موقوفہ اراضی کو بھی ایرپورٹ میں شامل کرنے والا جی ایم آر گروپ وقف بورڈ کو اس ایرپورٹ کا شراکت دار کیوں نہیں بناتا ؟ دوسری طرف شہر میں عوام یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ ہر سیاسی جماعت مسلمانوں کی ہمدردی کا دم بھرتی ہے ان سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں اور تیقنات کی ایک لمبی فہرست آج ہر سیاسی جماعت مسلم رائے دہندوں کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے لیکن مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے اقدامات کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ جہاں تک حیدرآباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کی شہید مسجد عمر فاروقؓ کا سوال ہے ۔ تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سال 1913 میں جب ذخیرہ آب حمایت ساگر کی تعمیر عمل میں آئی ۔ اس وقت وہاں مقیم مسلم خاندان شمس آباد کے گلوا گوڑہ بستی منتقل ہوگئے اور ان مسلمانوں نے 1982 میں مسجد عمر فاروق ؓ تعمیر کروائی یہ مسجد 406 مربع گز پر محیط تھی جب کہ اس سے متصل عیدگاہ 20 گنٹے پر پھیلی ہوئی تھی ۔ اسی طرح 1.20 ایکڑ اراضی پر قبرستان بھی تھا لیکن اپنوں اور غیروں نے ایک سازش کے تحت اس مسجد عیدگاہ اور قبرستان کو ایرپورٹ میں شامل کرلیا ۔ اس طرح ایک قدیم مسجد دیکھتے ہی دیکھتے شہید کردی گئی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وقف بورڈ اس ضمن میں پہل کرے اور سیاسی قائدین جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر مسجد عمر فاروقؓ کی دوبارہ تعمیر کو یقینی بنائیں لیکن اس کے لیے دیانت داری اور ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اکثر سیاستدانوں میں نہیں ہوتی ۔۔

TOPPOPULARRECENT