Wednesday , November 22 2017
Home / جرائم و حادثات / ایر گن کیلئے لائسنس کے لزوم کی تجویز

ایر گن کیلئے لائسنس کے لزوم کی تجویز

اصلی اور نقلی میں فرق مشکل، بندوق کلچر کو روکنے میں مدد کا دعویٰ
حیدرآباد 9 ستمبر (سیاست نیوز) ملک بھر میں شہریوں کے پاس موجود شوقیہ ریوالورس جوکہ ایرگن کہلاتی ہے، انھیں آرمس ایکٹ کے تحت لانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ 55 سالہ قدیم آرمس ایکٹ میں ترمیم کے سلسلہ میں وزارت بہبود خواتین و اطفال کی جانب سے یہ تجویز روانہ کی گئی ہے کہ ایر گن کو آرمس ایکٹ کے تحت لاتے ہوئے اُس کے لئے لائسنس کی اجرائی کو لازمی قرار دیا جائے۔ مرکزی وزیر منیکا گاندھی کی جانب سے پیش کردہ اِس تجویز کی مختلف گوشوں سے حمایت بھی کی جارہی ہے۔عموماً ایر گن کی خریدی کے لئے کوئی لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی اور شائقین بندوق اس طرح کے ہتھیار مختلف ممالک سے شوقیہ طور پر خریدتے ہیں ۔ وزارت بہبود خواتین و اطفال کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کی حمایت میں جو لوگ آواز اُٹھا رہے ہیں اُن کا استدلال ہے کہ بیشتر کمپنیوں کی جانب سے ایسی ایر گن تیار کی جارہی ہے جو ہو بہو اصلی بندوق کی طرح نظر آتی ہے اور کئی ممالک میں ایسی ایر گنس بھی موجود ہیں جن پر اصلی بندوق کی طرح لوگو اور سمبل پائے جاتے ہیں۔ اِسی لئے اصلی اور نقلی بندوق میں فرق کرنا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ ایرگنس کو لائسنس یافتہ بندوق کے زمرہ میں شامل کرنے کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے بندوق کلچر کو عام ہونے سے روکا جاسکتا ہے اور آتشیں اسلحہ پر قابو پانے کے اقدامات کو مزید بہتر بنانے میں مدد حاصل ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT