Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ایس آئی ٹی ٹیم کی آلیر پہونچکر تحقیقات کا آغاز

ایس آئی ٹی ٹیم کی آلیر پہونچکر تحقیقات کا آغاز

حیدرآباد ۔ 20 مئی (سیاست نیوز) وقاراحمد اور چار ساتھیوں کی مبینہ فرضی انکاونٹر میں ہلاکت کی اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے آج آلیر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ طویل رخصت سے واپسی کے بعد ایس آئی ٹی سربراہ مسٹر سندیپ شانڈیلیا کی قیادت میں خصوصی ٹیم کے ارکان نے آلیر پولیس اسٹیشن پہنچ کر کیس فائل حاصل کرلی اور باضابطہ کارروائی ک

حیدرآباد ۔ 20 مئی (سیاست نیوز) وقاراحمد اور چار ساتھیوں کی مبینہ فرضی انکاونٹر میں ہلاکت کی اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے آج آلیر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ طویل رخصت سے واپسی کے بعد ایس آئی ٹی سربراہ مسٹر سندیپ شانڈیلیا کی قیادت میں خصوصی ٹیم کے ارکان نے آلیر پولیس اسٹیشن پہنچ کر کیس فائل حاصل کرلی اور باضابطہ کارروائی کا آغاز کردیا۔

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ مسٹر شانڈیلیا اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کھمم مسٹر شاہنواز قاسم اور دیگر ٹیم کے ارکان آج صبح 6 بجے ضلع نلگنڈہ کے آلیر پولیس اسٹیشن پہنچ کر زیردریافت قیدیوں کے انکاونٹر میں استعمال کی گئی منی بس MP 11/TR E 8217 کا معائنہ کیا اور وہاں سے کئی کارتوس اور دیگر اشیاء برآمد کرلیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے مہلوک نوجوانوں کو جکڑنے کیلئے استعمال کئے گئے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کا بھی معائنہ کیا۔ بتایا جاتا ہیکہ مسٹر شانڈیلیا نے مہلوک نوجوان وقاراحمد کے والد محمد احمد کی جانب سے ورنگل کی اسکارٹ پولیس پارٹی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے سلسلہ میں آلیر پولیس اسٹیشن میں داخل کی گئی درخواست کا بھی مشاہدہ کیا۔ واضح رہیکہ محمد احمد نے اپنے فرزند کے انکاونٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے 11 اپریل کو آلیر پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی جبکہ ورنگل اسکارٹ پارٹی کے ریزرو سب انسپکٹر کے اودے بھاسکر کی شکایت پر مہلوک نوجوانوں وقاراحمد، سید امجد علی، محمد ذاکر، محمد حمید اور اظہارخان کے خلاف اقدام قتل اور پولیس کے ہتھیار چھیننے اور ان پر حملہ کرنے کا ایک مقدمہ جس کا کرائم نمبر 35/2015 ہے درج کیا تھا۔ جس انداز میں وقاراحمد اور اس کے ساتھیوں کو انکاونٹر میں ہلاک کیا گیا تھا

اس واقعہ کے بعد انکاونٹر کو صاف طور پر فرضی قرار دیتے ہوئے اسے سفاکانہ قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مہلوکین کے والدین نے الزام عائد کیا۔ حکومت تلنگانہ نے 13 اپریل کو ایک جی او جس کا نمبر 184 ہے، جاری کرتے ہوئے اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کے قائم کرنے کا اعلان کیا اور اس ٹیم کے سربراہ مسٹر سندیپ شانڈیلیا کو مقرر کیا جبکہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کھمم مسٹر شاہنواز قاسم، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسٹر دیانند ریڈی، اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس مادھاپور مسٹر رمناکمار، سابق انسپکٹر چادرگھاٹ مسٹر ایل راجہ وینکٹ ریڈی اور انسپکٹر ہمایوں نگر پولیس اسٹیشن مسٹر ایس ایس رویندر کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا۔ ایس آئی ٹی قائم کرنے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ 7 اپریل کو ورنگل سنٹرل جیل سے حیدرآباد کے نامپلی عدالت کو منتقلی کے دوران ہوئی ہلاکتوں کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگایا جائے گا اور بعدازاں تحقیقاتی رپورٹ متعلقہ عدالت میں داخل کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT