Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ایس ایس سی امتحانات میں حیدرآباد میں سختی اضلاع میں رعایت

ایس ایس سی امتحانات میں حیدرآباد میں سختی اضلاع میں رعایت

شہر کے نتائج حوصلہ افزائی سے قاصر ، نتائج کو بہتر بنانے میں پہلوتہی
حیدرآباد۔4مئی (سیاست نیوز) ایس ایس سی نتائج میں حیدرآباد کے نتائج کی صورتحال میں بہتری کیوں ریکارڈ نہیں کی جاتی اور کیوں شہر حیدرآباد ریاست کے دیگر اضلاع کی درجہ بندی میں فیصد کے اعتبار سے پیچھے ہوا کرتا ہے جبکہ حیدرآباد میں معیاری اسکولس کے علاوہ اساتذہ موجود ہیں۔ ان سوالات کے جوابات کے متعلق محکمہ تعلیم کے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں جس طرح امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں اتنی سختی اضلاع میں نہیں ہوتی اسی لئے اضلاع کے نتائج کا فیصد کا فی بہتر ہوتا ہے۔ ایس ایس سی نتائج کو ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے ضلع واری اساس پر جب تقسیم کیا گیا تو شہر حیدرآباد کو فیصد کے اعتبار سے ریاست میں 29واں مقام حاصل ہوا جو کہ آخری تین اضلاع میں سب سے پہلا مقام ہے یعنی حیدرآباد کے بعد سوریا پیٹ اور پھر ونپرتی کو آخری مقام حاصل ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کے نتائج میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی جا رہی ہے لیکن فیصد کے اعتبار سے حیدرآباد پیچھے رہنے کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں حیدرآباد میں امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کی تعداد بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ گذشتہ یوم جاری کئے گئے ایس ایس سی نتائج میں حیدرآباد 73.26فیصد کامیابی کے نشانہ کو عبور کرتے ہوئے ریاستی سطح پر 29واں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہا جبکہ اس کے بعد 30واں مقام سوریا پیٹ کو حاصل ہوا جہاں کامیابی کا فیصد 67.15رہا جبکہ آخری مقام ونپرتی کو حاصل ہوا جہاں کامیابی کا فیصد 64.81رہا ۔ کامیابی کے فیصد کے اعتبار سے حیدرآباد کو سر فہرست اضلاع میں شامل نہ ہونے کے متعلق اساتذہ کا کہنا ہے کہ ریاست کے دیگر اضلاع کے طلبہ کی تعداد اور حیدرآباد کے طلبہ کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو حیدرآباد سے جتنے طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے وہ ریاست کے دیگر سر فہرست 5اضلاع کے طلبہ کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے۔ دونوں شہروں میں خانگی‘ امدادی اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کے سبب فیصد کے اعتبار سے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ حیدرآباد کے نتائج بہتر نہیں ہیں کیونکہ شہر حیدرآباد سے جاریہ سال 68ہزار 356طلبہ و طالبات نے امتحانات میں شرکت کی تھی جن میں 50 ہزار 77طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کامیابی کو اگر فیصد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسی صور ت میں دیگر اضلاع سے کامیابی کا فیصد کم ہی نظر آئے گا لیکن طلبہ کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو5 سر فہرست اضلاع کے کامیاب امیدواروں کے مساوی تعداد صرف شہر حیدرآباد سے کامیاب ہوئی ہے۔ شہر حیدرآباد کے نتائج کے متعلق خانگی اسکولوں کے ذمہ دارو ںکا بھی کہنا ہے کہ شہری علاقو ںمیں امتحانات کے دوران جتنی سختی اختیار کی جاتی ہے اور تلبیس شخصی و نقل نویسی کو روکنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں اتنی سختی اضلاع میں نہیں ہوپاتی جس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم امتحانی عملہ کی کمی شمار کی جاتی ہے جس کے سبب اضلاع اکثر سر فہرست ہوا کرتے ہیں لیکن اگر طلبہ کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو حیدرآباد سب سے آگے ہے اور کامیاب طلبہ کی تعداد میں بھی حیدرآباد ہی سر فہرست ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT