Saturday , December 15 2018

ایس ایس سی امتحانات میں نقل نویسی اور پرچوں کا افشاء

29 ممتحن ، 6 سپرنٹنڈنٹس گرفتار ، چند خانگی اسکولس کے خلاف نوٹس جاری
حیدرآباد ۔ 24 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاستی کمشنر و ڈائرکٹر محکمہ تعلیمات تلنگانہ جی کشن نے بتایا کہ ریاست بھر میں امتحانات ایس ایس سی کا پرامن انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے لیکن ان امتحانات ایس ایس سی کے آغاز سے ہی امتحانی پرچوں کے افشاء ، نقل نویسی جیسے واقعات کی اطلاعات کے ذریعہ سنسنی پھیلائی جارہی ہے ۔ لہذا امتحانی ڈیوٹی پر تعینات ممتحن اسٹاف کو سیل فون استعمال سے روکدیا گیا ہے اور انہیں سیل فون ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ کشن نے بتایا کہ امتحانی پرچوں کو ’ واٹس اپ ‘ کے ذریعہ امتحانی مرکز کے باہر بھیجنے والے ممتحن اسٹاف کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے اور جن اساتذہ نے قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف محکمہ جاتی تادیبی کارروائی کی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں امتحانات کے آغاز سے قبل ہی اساتذہ اور اساتذہ یونینوں کے نمائندوں کو واقف کروا دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسکول مینجمنٹس کی کثیر تعداد ہی ان بے قاعدگیوں میں ملوث پائے جارہے ہیں ۔ ریاستی کمشنر و ڈائرکٹر محکمہ تعلیمات نے کہا کہ امتحانی پرچوں کے افشاء واقعات کی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ جب کہ اب تک امتحانی پرچوں کے افشاء واقعات میں ملوث پائے جاکر گرفتار کئے جانے والے خانگی افراد 5 ڈیوٹی انجام دینے والے سرکاری ملازمین 18 ڈیوٹی انجام نہ دیتے ہوئے نقل نویسی کروانے کے واقعات میں ملوث پائے جانے والے 11 کو گرفتار کیا گیا ۔ علاوہ ازیں نقل نویسی میں مدد کرنے والے 29 افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جو سرکاری ملازمین ہیں ۔ کشن نے کہا کہ ایس ایس سی امتحانات کے دوران پیش آئے بعض مبینہ بے قاعدگیوں کے واقعات کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات کی تکمیل کے بعد مکمل تفصیلات سے میڈیا کو واقف کروایا جائے گا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں خاطی پائے جانے والے پرائیوٹ مینجمنٹس ، کے خلاف نہ صرف سخت کارروائی کی جائیگی ۔ بلکہ ان کے اسکولس کی مسلمہ حیثیت کو ختم کردیا جائے گا ۔ اور فی الوقت ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر ہی ان پرائیوٹ مینجمنٹس کو مسلمہ حیثیت ختم کیوں نہ کی جائے سے متعلق نوٹسیں جاری کی جاچکی ہیں ۔ کشن نے بتایا کہ اب تک 29 ممتحن اسٹاف چھ چیف سپرنٹنڈنٹس محکمہ کے تین عہدیداروں ڈیوٹیوں سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے امتحانی پرچوں کے افشاء سے متعلق تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ امتحانی اوقات کے درمیان کوئی امتحانی پرچہ امتحانی مرکز سے باہر آتا ہے تو وہ واقعہ ہرگز امتحانی پرچہ کا افشاء ہرگز تصور نہیں کیا جائے گا ۔ بلکہ وہ مکمل طور پر نقل نویسی ( مال پریکٹس ) ہی کہلائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ جاری امتحانات کے ماباقی پرچوں کے بھی پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کئے گئے ہیں ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT