Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ایس ایس سی میں کامیابی کیلئے تلگو میں 35 فیصد نشانات کا لزوم خطرناک رجحان

ایس ایس سی میں کامیابی کیلئے تلگو میں 35 فیصد نشانات کا لزوم خطرناک رجحان

سابقہ آندھرائی حکومت کے فیصلہ کو واپس لینے حکومت تلنگانہ پر زور ، مسلم طلبہ کا مستقبل تباہ کرنے کی سازش ماہرین کی رائے

سابقہ آندھرائی حکومت کے فیصلہ کو واپس لینے حکومت تلنگانہ پر زور ، مسلم طلبہ کا مستقبل تباہ کرنے کی سازش ماہرین کی رائے
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی : متحدہ آندھرا پردیش میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ بہت نا انصافیاں کی گئیں ۔ قطب شاہی و آصف جاہی دور کی تاریخی عمارتوں کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ انہیں تعمیر کرنے والے مسلمان تھے ، اس طرح ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے والی زبان اردو کو مٹانے کی اس لیے کوشش کی گئی کیوں کہ اس زبان کا مسلمان زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔ غرض آندھرائی قائدین نے تلنگانہ میں مسلم تہذیب کو مٹانے اقلیتوں کو ترقی و خوشحالی سے محروم کرنے اور اردو کو ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ اس کے باوجود قدیم تہذیب کو وہ نہیں مٹا سکے ۔ اردو کی مٹھاس نے ان کے عزائم کو ناکام بنادیا ۔ قارئین … حکومتوں اور سیاستدانوں کی اردو اور اقلیت دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تعلیمی سال 2014-15 سے ایس ایس سی میں کامیابی کے لیے زبان دوم تلگو میں 35 نشانات کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ برسوں سے اردو و انگریزی اور دیگر میڈیم طلبہ کے لیے ایس ایس سی میں کامیابی کے لیے تلگو میں20 نمبرات حاصل کرنا کافی تھا ۔ سابقہ حکومت کی جانب سے سارے تلنگانہ میں اس قسم کا قاعدہ لاگو کرنے سے نہ صرف مسلمان بلکہ لسانی اقلیت سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کو بہت نقصان ہوگا ۔ آپ کو بتادیں کہ تلنگانہ کے دس اضلاع میں سے صرف ضلع حیدرآباد میں بے شمار اردو میڈیم اسکولس کے علاوہ ڈھائی ہزار سے زائد خانگی اسکولس ہیں ۔ جن میں لاکھوں طلبہ تعلیم حاصل کرہے ہیں اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں طلبہ ایس ایس سی امتحان لکھتے ہیں ۔ حکومت کے اس اقدام سے مسلم اور لسان اقلیت کے طلبہ کے لیے شدید مشکلات پیش آئیںگی ۔ ہم نے اس سلسلہ میں بعض خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں اور اولیائے طلبہ سے بات کی ۔ ان کے خیال میں آندھرائی حکمرانوں نے تلنگانہ سے جاتے ہوئے بھی اپنی مکاری دکھائی ہے ۔ ایس ایس سی میں کامیابی کے لیے تلگو میں 35 نشانات کا لازمی قرار دیا جانا ایک متعصبانہ فیصلہ ہے اور حکومت تلنگانہ کو یہ فیصلہ حقارت کے ساتھ منسوخ کردینا چاہئے ۔ خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ہر زبان اچھی ہوتی ہے تلگو سیکھنے میں بھی کوئی قباحت نہیں لیکن کسی زبان کو اقلیتوں پر زبردستی تھوپنا غلط بات ہے ۔ اردو اور انگریزی میڈیم کے ہونہار طلبہ اکثر تلگو میں ناکام ہوتے ہیں ایسے میں اگر تلگو میں کامیابی کے لیے درکار نشانات کو 20 سے بڑھا کر 35 فیصد کردیا جائے تو اردو اور انگریزی میڈیم اسکولس کے نتائج شدید متاثر ہوں گے ۔ جس کا راست اثر طلبہ کے مستقبل پر پڑے گا ۔ ان حضرات نے حکومت پر یہ فیصلہ واپس لینے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کو دور کرنے کی باتیں کرتی ہے دوسری طرف وہ ایسے فیصلے کرنے سے گریز نہیں کرتی جو لسانی اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ، پسماندگی کا باعث بنتے ہیں ۔ فیڈریشن آف پرائیوٹ اسکولس مینجمنٹس کے عہدہ داروں کے خیال میں کے سی آر حکومت کو چاہئے کہ سابقہ آندھرائی حکومت کے اس فیصلے کو منسوخ کردے ۔ ڈان ہائی اسکول کے کرسپانڈنٹ فضل الرحمن خرم کے مطابق ہر زبان اچھی ہوتی ہے ایسے میں تلگو چونکہ ہماری ریاستی زبان ہے اسے سیکھنے میں کوئی برائی نہیں لیکن اچانک برسوں سے جاری روایت کو منسوخ کرتے ہوئے ایس ایس سی میں کامیابی کے لیے تلگو میں 20 کی بجائے 35 فیصد کا لزوم خطرناک اقدام ہے ۔ اس سے صرف اور صرف اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد اور تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں جو مسلمان طلباء و طالبات ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے ۔ تلگو ریاستی زبان ، ہندی قومی زبان ، انگریزی عالمی زبان اور عربی مذہبی زبان ہے ۔ طلباء کو بیک وقت تمام زبانیں سیکھنے کی ترغیب دینا دانشمندی نہیں بلکہ بے وقوفی یا تعصب ہے ۔ سینٹ معاذ اسکول سعیدآباد کے کرسپانڈنٹ محمود ساجد کے خیال میں حکومت کواپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔ اس لیے کہ ایس ایس سی میں کامیابی کے لیے تلگو میں 20 فیصد کا لزوم واجبی تھا لیکن دیگر مضامین کی طرح کامیابی کے لیے اس مضمون میں بھی 35 فیصد نشانات کو لازمی قرار دینا بالکل غیر واجبی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اردو اور انگریزی میڈیم کے طلبہ سب سے زیادہ تلگو میں ناکام ہوتے ہیں اگر 35 فیصد نشانات کا لزوم ہوجاتے تو کامیابی کا اوسط 35 فیصد بھی نہیں رہے گا ۔ ہیلا ہیوم ہائی اسکول کشن باغ کے عبدالحمید ، محمڈن مشن اسکول کے جناب مجاہد ، ایم ایس مشن ہائی اسکول کے محمد شوکت ، ایشین گرامر ہائی اسکول کے میر مکرم علی رائل اقیام اسکول کے مجیب خاں ، روزی ہائی اسکول کے جناب روف قادری نے بھی اسی طرح کے خیالات ظاہر کئے ۔ اس سلسلہ میں ہم نے کچھ سرپرستوں سے بھی بات کی ۔ شہر کے ممتاز انجینئر اور فرسٹ پوائنٹ اکیڈیمی کے جناب عظیم الدین اسد نے بتایا کہ اکثر مسلم طلبہ تلگو میں ناکام ہوتے ہیں ۔ 20 نمبرات حاصل کرنے کے لیے انہیں غیر معمولی محنت کرنی پڑتی ہے ۔ انہوں نے خود اپنی مثال پیش کی اور کہا کہ ان کے ذہن میں آج تک وہ تلگو نظم تازہ ہے جو رٹ کر یاد کی گئی تھی ۔ عظیم الدین اسد انجینئر کے مطابق حکومت کو یہ فیصلہ فوری واپس لینا چاہئے ورنہ اردو اور انگریزی میڈیم کے نتائج متاثر ہوں گے ۔ لہذا حکومت کو یہ فیصلہ منسوخ کرنا چاہئے ۔ دوسری جانب تمام مضامین کے اساتذہ کے لیے جو اورینٹیشن کورس چلایا جاتا ہے اس کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے کہ وہ صرف تلگو میں چلایا جارہا اس سے اردو اور انگریزی اساتذہ کو مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ بہر حال اس معاملہ میں حکومت کی مداخلت بہت ضروری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT