Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ایس ایس سی پرچہ ریاضی میں طلباء کو الجھن

ایس ایس سی پرچہ ریاضی میں طلباء کو الجھن

نئے انداز کی ترتیب اور امتحانی طریقہ کار میں تبدیلی سے مشکلات

نئے انداز کی ترتیب اور امتحانی طریقہ کار میں تبدیلی سے مشکلات
حیدرآباد۔16۔اکتوبر (سیاست نیوز) ایس ایس سی کے جاریہ سہ ماہی امتحانات میں آج حساب کا پرچہ تھا جس میں طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بیشتر طلبہ نے پرچہ کو ایسے ہی چھوڑ دیا چونکہ نئے انداز میں ترتیب دیئے گئے اس پرچہ کو سمجھنے کیلئے طلبہ کو کافی وقت لگا اور 70 فیصد سے زائد طلبہ نئے انداز میں ترتیب کردہ امتحانی پرچہ کو سمجھ ہی نہیں پائے تو پھر جواب تحریر کرنا تو ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ حکومت نے ایس ایس سی امتحان کے طریقہ کار اور نصاب میں جو تبدیلی لائی ہے ، اس کے متعلق بیشتر خانگی اسکولوں کا نظریہ کافی مثبت ہے اور اسکول انتظامیہ کا ادعاء ہے کہ نیا تعلیمی نصاب طلبہ میں نہ صرف مسابقتی جذبہ بڑھاتا ہے بلکہ اس نصاب کے ذریعہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے لیکن امتحانی طریقہ کار میں کی گئی تبدیلی اور پرچہ سوالات کی تیاری میں جو تبدیلیاں کی گئی ہے، ان سے طلبہ میں تشویش پیدا ہوچکی ہے، اتنا ہی نہیں بلکہ کئی امتحانی مراکز پر اساتذہ خود آج کے ایس ایس سی سہ ماہی حساب کے پرچے کو فوری طور پر سمجھنے یا سلجھانے سے قاصر رہے۔ ماہرین حساب سمجھے جانے والے اساتذہ نے بھی مشکل ترین پرچہ کی تیاری پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس سی طلبہ پر اچانک اس طرح سے بوجھ میں اضافہ کیا جانا ان کی صلاحیتوں سے زائد کام لینے کے مترادف ہے ۔ جناب فضل الرحمن خرم نے بتایا کہ آج کا پرچہ انتہائی مشکل تھا لیکن اس کے باوجود نئے تعلیمی نصاب کو غیر درست نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ نئے تعلیمی نصاب اور طریقہ امتحان کو سمجھنے اور سمجھانے کیلئے اساتذہ کو خصوصی طور پر تربیت کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کیلئے تربیتی کلاسس کا اہتمام کرنے کی صورت میں اساتذہ بچوں کو امتحانی طریقہ کار سے قبل از وقت واقف کروانے کے اہل رہیں گے ۔ جناب ایس ایم علی نے بتایا کہ حساب کے پرچہ کو دیکھ کر آج کئی طلبہ نے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ وہ اس پرچہ کو حل کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کے ساتھ کہا کہ حساب میں کمزور سمجھے جانے والے زائد از 90 فیصد طلبہ نے آج کے پرچہ کو مکمل طور پر حل نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہ ماہی امتحانات میں ہی اس قدر سخت پرچہ طلبہ کے خدشات میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اساتذہ کی تربیت کا انتظام کرے تاکہ اساتذہ بہتر انداز میں طریقہ امتحان اور نئے نصاب کو سمجھ سکیں۔ جناب ساجد محمود نے بتایا کہ حساب ایک ایسا مضمون ہوتا ہے جس میں طلبہ ہر سوال کو حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں چونکہ حساب کے پرچہ میں تحریر کے نشانات نہیں ہوتے بلکہ سوال حل کرنے پر مکمل نشانات کے حصول کی پوری توقع ہوتی ہے لیکن آج کے ایس ایس امتحان میں جو حساب کا پرچہ تیار کیا گیا تھا، وہ کسی بھی صورت میں ایس ایس سی طلبہ کیلئے ہے، یہ کہا جانا انتہائی دشوار کن ہیں۔ مسٹر اشوک کمار نے بتایا کہ جس کورس کی بنیاد حکومت نے رکھی ہے، وہ کافی حد تک طلبہ کی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے لیکن اسے فوری طور پر مسلط کرنے کے بجائے چھٹویں یا ساتویں جماعت سے اگر نصاب تبدیل کیا جائے تو ایسی صورت میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کے حساب کے پرچہ میں نویں اور دسویں جماعت کے پرچہ جات کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو نویں جماعت کا پرچہ بھی انتہائی مشکل بلکہ دسویں جماعت میں پوچھے گئے کئی سوالات نویں جماعت کے پرچہ میں بھی شامل تھے ۔ جناب سید بلیغ الدین نے بھی اساتذہ کی تربیت اور نئے طریقہ امتحان سے طلبہ کو واقف کرانے کے دیگر طریقہ کار اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں سالانہ امتحانات میں طلبہ کے نتائج پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ خانگی اسکولوں کے ذمہ داران کی جانب سے اس سلسلہ میں ضلع انتظامیہ کے علاوہ حکومت سے نمائندگی کے متعلق بھی غور کیا جارہا ہے تاکہ طلبہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی مناسب رہنمائی یقینی بنائی جائے۔

TOPPOPULARRECENT