Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / ایس بی آئی میں ایس بی ایچ کے انضمام سے تلنگانہ آمدنی سے محروم ہوجائے گا:سدھاکر ریڈی

ایس بی آئی میں ایس بی ایچ کے انضمام سے تلنگانہ آمدنی سے محروم ہوجائے گا:سدھاکر ریڈی

حیدرآباد، 12جون (یواین آئی) سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں انضمام کی مخالفت کی ہے ۔انہوں نے اس مجوزہ انضمام سے آمدنی کے خسارہ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اس انضمام کی مخالفت میں قرارداد منطور کرے ۔سدھاکرریڈی جو آندھراپردیش اور تلنگانہ بینک ایمپلائز فیڈریشن (اے پی ٹی بی ای ایف ) کے اعزازی صدر بھی ہیں نے کہا کہ گذشتہ ماہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے بورڈ نے حکومت کو 5سبسیڈیریز اور پہلی خواتین کی بھارتیہ مہیلا بینک کے اس میں انضمام کی تجویز پیش کی تھی۔ ایس بی ایچ ملازمین ‘ اسٹاف ‘ دیگر ایسوسی ایٹ بینکس اور اسٹیٹ بینک آف ٹراونکور کے اسٹاف اس انضمام کی تجویز کے خلاف 28اور 29جولائی کو دو روزہ ہڑتال کریں گے ۔ ایسوسی ایٹ بینکس میں اسٹیٹ بینک آف بیکانیر و جے پور ‘ اسٹیٹ بینک آف ٹراونکور ‘ اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ ‘ اسٹیٹ بینک آف میسور اور اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیر فینانس ارون جیٹلی نے ان بینک یونینوں کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ تجویز پیش کی تھی۔ ہم ان پانچ ریاستوں کے بینکس کے انضمام کے متبادل پر غور کررہے ہیں۔ لیکن اچانک 17مئی کو انہوں نے ایک میٹنگ طلب کرتے ہوئے ان بینکس کے انضمام کے لئے مجبور کیا جس کی ڈائرکٹرس نے مخالفت کی۔ انہو ں نے مجوزہ انضمام کے 3مسائل پیش کئے ۔ پہلا مسئلہ نفسیاتی ہے ۔کیوں کہ اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد ‘ نظام دکن حیدرآباد نے قائم کیا تھا۔ یہ منافع بخش بینک ہے ۔ اس کی اس سال 1061کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ اس بینک کے انضمام کی کوئی وجہ نہیں ہے جسے عوام تلنگانہ کے بینک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ آندھراپردیش ‘ تلنگانہ میں ان دنوں قائم کردہ اس بینک کے منافع کا حصہ ریاستی حکو مت کو دیا گیا تھا۔ اگر یہ ایس بی آئی کو جاتا ہے تو یہ منافع رجسٹرڈ آفس یعنی مہاراشٹرا حکومت کو چلا جائے گا۔ تلنگانہ حکومت کسانوں کو مدد کرنے ایس بی ایچ سے خواہش کے امکان سے محروم ہوجائے گی۔ تیسرا اعتراض انہو ں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف حیدرآبادا ور دیگر سبسیڈیریز بینکس کو ایس بی آئی کے ملازمین کی طرز پر تصور نہیں کیا جائے گا۔ایس بی ایچ یا دیگر سبسیڈیری بینکس کے ملازمین کو وہاں دوسرے درجہ کا شہری تصور کیا جائے گا۔ ان کی ترقی کے لئے سینیاریٹی قبول نہیں کی جائے گی ۔ انہیں ایس بی آئی کے ملازمین کو حاصل تمام سہولتیں نہیں مل سکیں گی۔ ایس بی ایچ میں جس طرح وہ تھے اسی طرح وہ برقرار رہیں گے ۔ یہ ان کی بے عزتی ہوگی۔ اس انضمام سے ریاست علاقائی بینک سے محروم ہوجائے گی۔ریاست بینک کا منافع کسانوں ‘ چھوٹے تاجروں ‘ خود روزگار افراد سے بھی محروم ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ قانون ساز کونسل کو چاہئے کہ وہ اس انضمام کی مخالفت کرتے ہوئے قرارداد منظور کرے اور چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ احتجاج کی قیادت کریں۔ کیرالا کے چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو اس سلسلہ میں خط لکھتے ہوئے ٹراونکور ‘ کوچین ۔۔ کوچین اسٹیٹ بینک کے انضمام کی مخالفت کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT