Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کو بیرونی یونیورسٹیوں میں تعلیم کیلئے 20 لاکھ روپئے کی امداد

ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کو بیرونی یونیورسٹیوں میں تعلیم کیلئے 20 لاکھ روپئے کی امداد

اقلیتی طلبہ نظر انداز ، مسلم طلباء کی بیرونی ملکوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے خصوصی اسکیم ضروری

اقلیتی طلبہ نظر انداز ، مسلم طلباء کی بیرونی ملکوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے خصوصی اسکیم ضروری
حیدرآباد ۔ 16 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : ہندوستان میں آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں کے تئیں زندگی کے ہر شعبہ میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا ۔ خاص طور پر ہماری اپنی غفلت سیاستدانوں کی بے حسی ، سیاسی جماعتوں و تنظیموں کی عدم دلچسپی نے تعلیمی میدان میں مسلمانوں کو بہت زیادہ پسماندہ کر کے رکھدیا جس کا راست اثر ہماری معیشت پر پڑا ہے ۔ روزگار اور ملازمتوں سے مسلم نوجوان محروم ہیں ۔ سیاسی طور پر بھی ووٹ بنک کی حیثیت سے ہمارا بے تحاشہ استعمال کیا گیا اور اس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اگر آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان اور مسلم قائدین تعلیمی شعبہ پر توجہ دیتے ہوتے تو موجودہ صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ آج ملک کی جیلوں میں سب سے زیادہ مسلمان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ سینکڑوں بے قصور نوجوان فرضی مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ سرکاری ملازمتوں میں ہمارا تناسب صفر کے برابر ہوتا جارہا ہے ۔ پولیس اور فوج میں ہم نظر نہیں آتے نتیجہ میں ہم مسلمان ظلم و بربریت اور استحصال کی چکی میں پستے جارہے ہیں جہاں تک تعلیم کا سوال ہے ۔ حکومت نے امبیڈکر اوورسیز ویدیاندھی کے نام سے ایک اسکیم شروع کی ہے جس کے تحت ملک کی سات ریاستوں سے تعلق رکھنے والے درج فہرست طبقات و قبائل کے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونی ملک بھیجاجاتا ہے ۔ گذشتہ سال اس اسکیم کے تحت آندھرا پردیش اور تلنگانہ ( متحدہ ریاست ) سے کئی طلبہ نے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے حکومت سے مالی مدد طلب کی تھی ۔ جس میں سے 66 طلبہ ( تلنگانہ سے 48 اور آندھرا سے 18 طلبہ ) کا انتخاب عمل میں آیا ۔ حکومت آندھرا پردیش نے پہلے اس اسکیم کے تحت ایس سی ایس ٹی سے تعلق رکھنے والے 300 طلبہ کو جاریہ سال بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے روانہ کرنے کا نشانہ مقرر کیا تھا لیکن اب آندھرا پردیش کے وزیر سماجی بہبود آرکشور بابو ایس سی ایس ٹی کے 1000 طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، کناڈا اور سنگاپور بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس اسکیم سے استفادہ کرنے کے خواہاں طلبہ کی عمر 35 سال سے کم ہونی چاہئے اور والدین کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ سے زائد نہ ہو ۔ اس کے علاوہ اس اسکیم سے درج فہرست طبقات و قبائل کے ایسے طلبہ مستفید ہوسکتے ہیں جنہیں مذکورہ ممالک کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہو ۔ حکومت دس لاکھ روپئے تعلیمی امداد کے طور پر فراہم کرے گی ۔ دوسری طرف حکومت آندھرا پردیش نے بیرونی یونیورسٹی میں اس اسکیم کے تحت تعلیم حاصل کرنے والوں کو سالانہ 10لاکھ روپئے کی امداد دے گی اور بنکس کی جانب سے 10 لاکھ روپئے کا تعلیمی قرض منظور کیا جائے گا ۔ درج فہرست طبقات و قبائل کے طلبہ کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرتے ہوئے انہیں سطح غربت سے اونچا اٹھانے اور ترقی کے ثمرات سے مستفید کروانے حکومت جو اقدامات کررہی ہے اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات ضروری نہیں ہیں ؟ حالانکہ تعلیمی لحاظ سے مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں اگر مسلم طلباء و طالبات کو آندھرا اور تلنگانہ دونوں ریاستوں میں بیرون ممالک خاص کر امریکہ ، برطانیہ ، کناڈا ، سنگاپور اور آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کے مماثل رقمی امداد فراہم کی جائے تو اس کا مسلمانوں کی تعلیمی حالت پر اچھا اثر پڑ سکتا ہے اور مسلم طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے اس سلسلہ میں ہمدردان ملت کو حرکت میں آنا ہوگا ۔ عوامی نمائندوں کو ایوانوں میں آواز اٹھانی ہوگی ۔ مسلمانوں سے صرف زبانی ہمدردی کی بجائے ٹھوس اقدامات کے لیے حکومت کو مجبور کرنا ہوگا ۔ ویسے بھی مسلم طلبہ کے لیے بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم کے لیے اسکالر شپس کا مطالبہ ہمارا حق ہے ہم کسی دوسرے کا حق نہیں چھین رہے ہیں ۔ ایس سی ، ایس ٹی کے لیے جس طرح سب پلان یا ذیلی منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ اسی طرح کے ثمرات سے اقلیتی طلباء کو مستفید کرانے کی ضرورت ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوامی نمائندے حکومت کو اس ضمن میں کس طرح توجہ دلاتے ہیں اور کے سی آر حکومت کے مسلم چہرہ کی حیثیت سے مشہور ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی اس ضمن میں کیا کردار ادا کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT