Monday , November 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ایس سی اور ایس ٹی پر کے سی آر مہربان مسلم تحفظات نہیں ملے اور بجٹ بھی کم

ایس سی اور ایس ٹی پر کے سی آر مہربان مسلم تحفظات نہیں ملے اور بجٹ بھی کم

حیدرآباد ۔ 15 ۔مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کی کے سی آر حکومت نے مسلمانوں سے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار کے 4 ماہ میں تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ حکومت کے 4 سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا۔ اقلیتوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ تحفظات کے عوض میں اقلیتی بجٹ کو کم از کم 5000 کروڑ کیا جائے۔ حکومت نے انتخابی بجٹ پیش کرتے ہوئے تمام طبقات کو خوش کرنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن دیگر طبقات کے مقابلہ اقلیتوں کے ساتھ رویہ انصاف پر مبنی نہیں رہا ۔ دیگر طبقات کو ان کی آبادی کے اعتبار سے بجٹ مختص کیا گیا ہے لیکن اقلیتوں کے سلسلہ میں اس بات کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے بجٹ سے اقلیتی بہبود بجٹ کا تقابل کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ دیگر طبقات کے مقابلہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ معمولی ہے۔ حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ ایس سی اور ایس ٹی کیلئے اسپیشل ڈیولپمنٹ فنڈ قائم کیا ہے۔ ایس سی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت 16,453 کروڑ اور ایس ٹی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت 9693 کروڑ مختص کئے گئے ۔ اس رقم کے مکمل خرچ نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق یہ رقم آئندہ مالیاتی سال منتقل ہوجائے گی جبکہ اقلیتی بہبود کے سلسلہ میں اس طرح کی کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے۔ اسپیشل ڈیولپمنٹ فنڈ کے علاوہ حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے علحدہ بجٹ بھی مختص کیا ہے۔ 2011 مردم شماری کے اعتبار سے ایس ٹی طبقہ کی آبادی تلنگانہ میں 32 لاکھ 87 ہزار ہے۔ ان کے لئے 8063 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا۔ ایس سی طبقہ کی آبادی تلنگانہ میں 15.45 فیصد ہے اور انہیں 12,709 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا۔ بی سی طبقات آبادی کا 52 فیصد ہے۔ ان کیلئے 5920 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تلنگانہ میں اقلیتیں 12 فیصد سے زائد ہیں لیکن ان کیلئے محض 2000 کروڑ مختص کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT