Monday , November 19 2018
Home / ہندوستان / ایس سی ایس ٹی قانون پر فیصلہ سے قانون کی دفعات نرم

ایس سی ایس ٹی قانون پر فیصلہ سے قانون کی دفعات نرم

سپریم کورٹ کے اجلاس پر مرکزی حکومت کا بیان، ملک کو عظیم نقصان پہونچنے کا اندیشہ

نئی دہلی 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے آج سپریم کورٹ سے کہاکہ اُس کے حالیہ فیصلے سے درج فہرست ذاتوں / درج فہرست قبائیل قانون کی دفعات ’’نرم‘‘ ہوگئی ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ملک کو عظیم نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہے۔ اِس لئے اِس کی اصلاح کے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں کہاکہ یہ ایک انتہائی حساس نوعیت کے مسئلہ کے بارے میں ہے جس سے جذبات کی برانگیختگی، غصہ، بے چینی اور ملک میں خیرسگالی ختم ہونے کا احساس پیدا ہوا ہے۔ حکومت نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جو اُلجھن پیدا ہوئی ہے اِس کی فیصلے پر نظرثانی کے ذریعہ اصلاح کی جانی چاہئے۔ مرکز نے یاد دہانی کی کہ اُس کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اپنے تحریری بیان میں اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہاکہ فیصلے کے ذریعہ اعلیٰ سطحی عدالت نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائیل (انسداد مظالم) قانون 1989 ء کے جھول کو پُر نہیں کیا ہے بلکہ اِس میں عدالتی قانون سازی کے ذریعہ اصلاح کی ہے۔ اُنھوں نے پرزور انداز میں کہاکہ مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے اختیارات علیحدہ علیحدہ ہیں جن کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ اٹارنی جنرل نے اپنے تحریری بیان میں کہاکہ یہ بیان داخل کیا جارہا ہے کہ اِس فیصلے نے نرمی پیدا کردی ہے۔ اِس کی وجوہات بیان کی جاچکی ہیں۔ انسداد مظالم قانون کی دفعات کو اگر ضابطہ اخلاق کے ساتھ پڑھا جائے تو اِس سے ملک کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT