Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ایس سی زمرہ بندی کے لیے تلنگانہ حکومت سنجیدہ

ایس سی زمرہ بندی کے لیے تلنگانہ حکومت سنجیدہ

مندا کرشنا مادیگا مرکز کے خلاف احتجاج کریں، ٹی آر ایس قائد روی کا بیان
حیدرآباد۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) ایس سی کارپوریشن کے صدرنشین پی روی نے واضح کیا کہ ایس سی زمرہ بندی کے سلسلہ میں ریاستی حکومت مرکز سے نمائندگی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر تلنگانہ حکومت کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے کے بجائے مندا کرشنا مادیگا کو وزیراعظم سے ملاقات کا وقت حاصل کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مندا کرشنا مادیگا اگر ایس سی زمرہ بندی کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں تو انہیں نئی دہلی میں بھوک ہڑتال کرنی چاہئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی روی نے کہا کہ مندا کرشنا مادیگا نے اس مسئلہ پر غیر ضروری احتجاج کرتے ہوئے بے قصور اور معصوم افراد کو گرفتار کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال وزیراعظم نے اس مسئلہ پر بات چیت کے لیے وقت دیا تھا لیکن زمرہ بندی کا سہرا ٹی آر ایس کے سر جانے سے خائف بی جے پی قائد کشن ریڈی اور مندا کرشنا مادیگا نے ملاقات کے وقت کو منسوخ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے دو مرتبہ ملاقات کا وقت نہ دیئے جانے کے باوجود حیدرآباد میں بھوک ہڑتال کرنے کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8، 9، 10 جنوری کو تلنگانہ مادیگا جے اے سی، ایم آر پی ایس (رائے کنٹی) اور دیگر مادیگا تنظیموں کی جانب سے احتجاج منظم کیا جائے گا تاکہ زمرہ بندی کے سلسلہ میں وزیراعظم کو ملاقات کا وقت دینے کا دبائو بنایا جاسکے۔ روی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے مادیگا طبقے کی بھلائی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے 19 ایس سی اسمبلی حلقہ جات میں 12 پر مادیگا طبقے کے افراد کو نمائندگی دی گئی۔ 3 ایس سی لوک سبھا حلقوں میں 2 حلقوں سے مادیگا طبقے کے امیدوار کھڑا کیے گئے۔ ایم ایل سی کی حیثیت سے مادیگا طبقے کے ایک نمائندے کو شامل کیا گیا۔ پبلک سرویس کمیشن میں رکن اور ایس سی ایس ٹی کمیشن کے چیرمین کی حیثیت سے مادیگا کا تقرر عمل میں آیا ہے۔ ٹی آر ایس پارٹی میں 2 جنرل سکریٹری اور 3 سکریٹری مادیگا طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ا نہوں نے مندا کرشنا مادیگا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں آکر حکومت کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ ترک کریں۔

TOPPOPULARRECENT