Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ایس پی کی قیادت ملائم سنگھ کے حوالہ کرنے کے مطالبہ میں شدت

ایس پی کی قیادت ملائم سنگھ کے حوالہ کرنے کے مطالبہ میں شدت

نیتاجی کا احترام بحال کرنے پر زور ،اکھیلیش کیخلاف ناراض قائدین سرگرم ، پارٹی کو دوبارہ مستحکم بنانے کا عہد

لکھنؤ۔ 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اُترپردیش اسمبلی انتخابات میں اکھیلیش یادو کے تجربات ناکام ہوجانے کے بعد ان کی سماج وادی پارٹی میں اب ناراض قائدین کی آوازیں اُبھرنے لگی ہیں۔ چند قائدین نے اس پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو کی قیادت کا قدیم طریقہ کار بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے 2012ء کے اسمبلی انتخابات میں محصلہ 224 نشستوں کے برخلاف 2017ء کے انتخابات میں بمشکل 47 نشستیں حاصل کرسکی ہے۔ اس طرح اس کو 177 نشستوں سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ان حالات میں ایس پی کے بعض قائدین بالخصوص ملائم سنگھ یادو اور شیوپال سنگھ سے قریبی تعلقات رکھنے والے ساکھ یہ چاہتے ہیں کہ پارٹی کی قیادت کو اکھیلیش اب اپنے والد کے سپرد کردیں۔ ایس پی کے ایک سینئر لیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کے ساتھ کہا کہ ’’اکھیلیش جی نے صرف انتخابات تک پارٹی پر کنٹرول کی خواہش کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ان کے لئے امتحان ہیں۔ اب چونکہ وہ (اکھیلیش) اس امتحان میں ناکام ہوچکے ہیں چنانچہ انہیں چاہئے کہ پارٹی کی قیادت کو اب نیتاجی کے حوالے کردیں‘‘۔ اکھیلیش نے خاندانی جھگڑے کے بعد عوام میں پارٹی کی ساکھ بہتر بنانے کے مقصد سے کانگریس کے ساتھ ماقبل انتخابات مفاہمت بھی کی تھی حالانکہ ان کے والد ملائم سنگھ یادو نے اس فیصلہ پر ذہنی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اکھیلیش کا احساس تھا کہ کانگریس سے انہیں کلیدی اہمیت کے حامل مسلم ووٹ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس ریاست میں 18% مسلم ہیں اور وہ (اکھیلیش) مسلم ووٹ لیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی پیش قدمی کو روک سکیں گے۔ اس سینئر لیڈر نے مزید کہا کہ ’’ایودھیا تحریک کے پیش نظر زبردست انتخابی ناکامیوں کے باوجود ہم نے پارٹی کو دوبارہ فعال اور مقبول بنایا تھا۔ یہ کام ہم اب بھی کرسکتے ہیں۔ ہم اکھیلیش کے مستقبل کے تحفظ کا وعدہ بھی کرتے ہیں لیکن پارٹی کو اب نیتاجی کی ہدایات و رہنمائی میں کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے‘‘۔ ایس پی کے بانی رکن اور سابق ترجمان سی پی رائے نے کہا کہ پارٹی کے لئے کامیابی حاصل کرنے والوں میں اکثر وہ ہیں جنہیں ملائم سنگھ یادو یا شیوپال یادو نے ٹکٹ دیئے تھے۔ رائے نے کہا کہ شیوپال یادو کے اسمبلی میں داخلے سے روکنے کی ممکنہ کوشش کی گئی جس کے باوجود وہ بہ آسانی بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے ہیں۔ ایس پی کے ایک اور لیڈر مدھوکر جیٹلی نے بھی ایسے ہی احساسات کا اظہار کرتے ہوئے اب ملائم سنگھ کا احترام بحال کیا جانا چاہئے۔ پارٹی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے، وہ بھی شکست کی ایک اہم وجہ ہے۔

’’ہماری جدوجہد جاری رہے گی ‘‘: اکھیلیش
لکھنؤ۔ 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایس پی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو اور اس کے سربراہ اکھیلیش یادو نے اُترپردیش اسمبلی انتخابات میں دندان شکن شکست کے بعد آج اپنی پارٹی کے قائدین اور کارکنوں سے ملاقات کی اور انہیں عوام تک پہونچتے ہوئے جماعت کو دوبارہ مستحکم بنانے کی ہدایت کی۔ اکھیلیش نے اس ملاقات کے دوران اپنی پارٹی کے قائدین اور کارکنوں سے کہا کہ سماج وادی پارٹی نہ صرف ایک جماعت ہے بلکہ ایک نظریہ بھی ہے۔ ’’چنانچہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی‘‘۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ’’آپ عوام تک پہونچیں اور جماعت کو دوبارہ مستحکم بنائیں۔ میں پارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انتخابی نتائج کا تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔ پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی اور امیدواروں کا ایک اجلاس آئندہ ہفتہ منعقد ہوگا جس میں ہم ایک نئی حکمت عملی مرتبہ کریں گے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT