Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد ملکی مفاد میں: مایاوتی

ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد ملکی مفاد میں: مایاوتی

اتحاد کسی بھی خود غرضی سے پاک، بی جے پی حواس باختہ، اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد پر زور

لکھنؤ 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے گورکھپور اور پھول پور کے لوک سبھا ضمنی انتخابات میں ایس پی ۔ بی ایس پی کے اتحاد سے ملی کامیابی سے پرجوش بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی اس نئے اتحاد سے بوکھلا گئی ہے اور اس میں دراڑ پیدا کرنے کوشاں ہے۔ مایاوتی نے اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہاکہ اتحاد کوئی ذاتی مفاد کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ وقت کی ضرورت کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا موجودہ اتحاد کسی مفاد کے بجائے ملکی مفاد کے تحت کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے بی جے پی کو روکنے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کے قومی محاذ کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ بہوجن سماج پارٹی کی صدر کے مطابق غیر بی جے پی اتحاد کی پارٹیوں کو ایک ساتھ مل کر عوام کو درپیش مسائل، غریبی و بے روزگاری پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہئے۔ انھوں نے بیروزگاری اور بڑھتی غربت کو بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ مایاوتی نے ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کو سارے ملک میں سراہا جارہا ہے لہذا بی ایس پی اور ایس پی کیڈر کسی بھی صورت میں بی جے پی کی غلط پالیسیوں کا شکار نہیں ہوں گے۔نیز ملک کے عوام کے وسیع مفاد میں وہ بذات خود دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر بی جے پی کو 2019 ء میں اقتدار سے دور رکھیں گے۔ انھوں نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ جب سے ایس پی ۔ بی ایس پی میں اتحاد ہوا بی جے پی قائدین بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔ مایاوتی نے ’من کی بات‘ میں وزیراعظم کی جانب سے بی آر امبیڈکر پر دیئے گئے بیان پر کہاکہ گزشتہ چار برسوں میں وزیراعظم نے دلتوں اور دیگر پچھڑے طبقات کو بے وقوف بنایا ہے، اب ان کا ڈرامہ مزید چلنے والا نہیں کیوں کہ دلت اور پچھڑے طبقات ان کی سازشوں کو سمجھ چکے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ملک میں امبیڈکر کے ذریعہ قائم کردہ مساوات کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی زیرقیادت حکومت قائم نہیں کرسکتی کیوں کہ یہ انتہائی تنگ نظر ہیں اور ان کی اسی تنگ ذہنی کی وجہ ہندوستانی عوام طویل عرصہ تک اسے اقتدار سے باہر رکھا تھا۔

TOPPOPULARRECENT