Tuesday , December 12 2017
Home / دنیا / ایشیائے کوچک میں چین اور انتہا پسندی طویل مدتی چیلنج

ایشیائے کوچک میں چین اور انتہا پسندی طویل مدتی چیلنج

واشنگٹن ۔ 13اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) جارحانہ رویہ کا حامل چین اور پُرتشدد انتہا پسندی ایشیائے کوچک میں سب سے بڑے چیلنج ہیں جو طویل مدتی بھی ہے ۔ شمالی کوریا فی الحال فوری اور دباؤ ڈالنے والا چیلنج ہے ۔ ایک اعلیٰ سطحی امریکی کمانڈر اڈمیرل ہیری ہیرس نے ایک انٹرویو میںکہا کہ دوسرا مسئلہ جو اس علاقہ کے تمام ممالک بشمول امریکہ کو درپیش ہے یہ ہے کہ ہم دولت اسلامیہ اور اس قسم کی پُرتشدد انتہا پسند سرگرمی اور دہشت گردی سے اس علاقہ میں برسرپیکار ہے ۔ جنوبی فلپائن کی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ فلپائن کی فوج کی مدد کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ یہ فوجیں شہر ماراوی پر اپنا قبضہ بحال کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں ۔ جن پر عسکریت پسندوں نے قبضہ کرلیا ہے اور دولت اسلامیہ سے اپنے الحاق کا اعلان بھی کردیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دہشت گردی سے جنوب مشرقی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کو لاحق خطرہ کے بارے میںتشویش میں مبتلا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنے انڈونیشیائی ہم منصب سے صرف تین ہفتہ قبل ملاقات کرچکے ہیں ‘ انہیں انڈویشیاء اور ملائیشیا کی بھی فکر ہے ۔ جنوبی فلپائن اور بنگلہ دیش کو بھی چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ ان کے خیال میں دیگر علاقے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ ایشیائے کوچک کمان کا دائرہ کارہندوستان سے شروع ہوتا ہے اور باقی ایشیاء بشمول چین ‘ جاپان ‘ آسٹریلیا اور پورے ہندوستانیبحرالکاہل کے علاقہ کا احاطہ کرتا ہے ۔ سابق اوباما انتظامیہ اور اب ٹرپ انتظامیہ ایشیائے کوچک کے چلاقہ پراپنے توجہ مرکوز کرچکاہے ۔ کابینی وزیر برائے ٹرمپ انتظامیہ وزیر خارجہ اور وزیر دفاع اس علاقہ کے کئی دورے کرچکے ہیں ۔ تاہم ہیر سنے کہا کہ شمالی کوریا فوری تشویش کیب سے بڑی وجہ ہے ۔دولت اسلامیہ اسے ایشیاء میںاپنیقدم جمانے کیلئے استعمال کرسکتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT