Saturday , January 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / ایشیاڈ :اسکولی طالب علم کم چیونگ یونگ نے گولڈ میڈل جیتا

ایشیاڈ :اسکولی طالب علم کم چیونگ یونگ نے گولڈ میڈل جیتا

انچیون ( جنوبی کوریا ) 21 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایشین گیمس کے 10 میٹر ائر پستول خطابی مقابلہ میں ایک شرمیلے کمسن اسکولی طالب علم کم چیونگ یونگ نے اولمپک اور ورلڈ چمپئن کو بھی شکست دیتے ہوئے انفرادی مقابلہ میں گولڈ میڈل حاصل کرلیا ۔ 17 سالہ چیونگ یونگ کوالیفائنگ راونڈ میں چوتھے نمبر پر تھا تاہم اس نے 8 نشانہ بازوں کے فائنل میں شاندار کار

انچیون ( جنوبی کوریا ) 21 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایشین گیمس کے 10 میٹر ائر پستول خطابی مقابلہ میں ایک شرمیلے کمسن اسکولی طالب علم کم چیونگ یونگ نے اولمپک اور ورلڈ چمپئن کو بھی شکست دیتے ہوئے انفرادی مقابلہ میں گولڈ میڈل حاصل کرلیا ۔ 17 سالہ چیونگ یونگ کوالیفائنگ راونڈ میں چوتھے نمبر پر تھا تاہم اس نے 8 نشانہ بازوں کے فائنل میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کرلیا اور اس موقع پر وہاں موجود شائقین نے اس کی کامیابی پر زبردست تالیاں بجائیں۔ کم چیونگ یونگ جنوبی کوریا کے جس ماہر نشانہ باز و اولمپک و ورلڈ چمپئن جن جونگ اوہ کا شیدائی ہے وہ اس مقابلہ میں تیسرے نمبر پر رہے ہیں جبکہ چین کے پانگ وئی کو دوسرا مقام حاصل ہوا ہے ۔ کم سیول میں ایک ہائی اسکول کا طالب علم ہے اور اس نے 201.2 پوائنٹ حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ پانگ کو 199.3 پوائنٹس پر ہی اکتفا کرنا پڑا تھا ۔ دفاعی چمپئن لی ڈائم یونگ کو کوالیفائنگ مقابلوں میں 13 واں مقام حاصل ہوا تھا اس لئے وہ فائنل میں رسائی حاصل نہیں کرسکے ۔ ہندوستان کے جیتو رائے پانچویں مقام پر رہے جنہوں نے ابتدائی دن 50 میٹر ائر پستول مقابلہ میں گولڈ میڈل جیتا تھا ۔ مقابلوں کے دوسرے دن میزبان جنوبی کوریا کے نشانہ بازوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا

اور کچھ بہترین کارنامے انجام دئے جبکہ افتتاحی دن نشانہ بازوں میں چین کا پلڑا بھاری رہا تھا جس نے تین گولڈ میڈل حاصل کئے تھے اور چوتھا گولڈ میڈل ہندوستان کے حصے میں آیا تھا ۔ نشانہ بازی کے مقابلوں میں کم چیونگ یونگ بالکل غیر معروف سمجھا جاتا تھا اور جاریہ سال کے یوتھ اولمپکس میں اسے دوسرا مقام حاصل ہوا تھا ۔ اس کامیابی کے بعد اس نوجوان نے پس و پیش کے ساتھ اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ یوتھ اولمپکس میں دوسرے ملکوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بعد اسے ایشین گیمس میں کچھ اچھے مظاہرہ کی امید پیدا ہوئی تھی ۔ کم نے کہا کہ ان کا ہیرو جن بھی اس مقابلہ میں موجود تھا اور چینی نشانہ باز بھی تھے ایسے میں وہ جانتے تھے کہ یہ آسان نہیں ہوگا لیکن انہیں اپنی صلاحیتوں پر بھی یقین تھا ۔ اس نوجوان نے کہا کہ ایشیاڈ خطاب جیتنا یقینی طور پر اس کا ایک خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے ۔ یہ اس کی خوش قسمتی اور تمام کوریائی باشندوں کی دعاوؤں کا نتیجہ ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کامیابی کے باوجود اسے سینئر نشانہ بازوں سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ ان کے مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کریگا ۔

TOPPOPULARRECENT