Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ایفلو کیمپس میں 200 سالہ قدیم تاریخی باولی ، کچرا باولی ‘ میں تبدیل

ایفلو کیمپس میں 200 سالہ قدیم تاریخی باولی ، کچرا باولی ‘ میں تبدیل

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : حیدرآباد دکن میں شاہی حکومتوں کے دوران رعایا کی بہبود کو اولین ترجیح دی جاتی تھی اور عوام تک پینے کا صاف ستھرا پانی پہنچانے کے انتظامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ عوام پانی کی قلت کی بھی شکایت نہیں کرتے تھے اور انہیں وافر مقدار میں پانی فراہم کیا جاتا رہا ۔ قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانی کے دو

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : حیدرآباد دکن میں شاہی حکومتوں کے دوران رعایا کی بہبود کو اولین ترجیح دی جاتی تھی اور عوام تک پینے کا صاف ستھرا پانی پہنچانے کے انتظامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ عوام پانی کی قلت کی بھی شکایت نہیں کرتے تھے اور انہیں وافر مقدار میں پانی فراہم کیا جاتا رہا ۔ قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانی کے دوران شہر حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں عوام کو صاف ستھرا اور میٹھا پینے کا پانی فراہم کرنے کی خاطر کئی ایک باولیاں کھودی گئیں ۔ ایسی ہی قدیم و تاریخی باولیوں میں ایفلو ( انگلش اینڈ فارن لینگویج یونیورسٹی ) میں واقع ایک تین منزلہ فن تعمیر کی شاہکار باؤلی ہے اور جس کی ہر منزل 5 کمانوں پر مشتمل ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس تاریخی آثار کو یونیورسٹی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے ۔ پانی میں درختوں کے پتے لکڑیاں مردہ حشرات کی ایک تہہ جم گئی ہے جب کہ پلاسٹک کی ناکارہ اشیاء ڈرینج کے خراب پائپس ، یہاں تک کہ شراب کی خالی بوتلیں وہاں بڑی بیدردی سے پھینکی گئیں ہیں ۔ ایفلو میں زائد از 200 سالہ قدیم اس باؤلی کو ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر کوڑے دان میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ تاکہ آصفجاہی حکمرانوں کی تہذیبی علامتوں کو مٹایا جائے ۔ اس باولی کے بارے میں آپ کو بتادیں کہ آصف جاہی دور میں اس کی تعمیر صرف اور صرف اس مقصد کے لیے عمل میں لائی گئی تھی کہ ماضی کی ممتاز رقاصہ و شاعرہ مہ لقا چندا بائی کے نام کی کئی جاگیر تک پینے کا پانی فراہم کیا جائے ۔ مہ لقا بائی کو اردو کی ایسی پہلی خاتون شاعرہ سمجھا جاتا ہے ۔ جس نے دیوان کی شکل میں اپنے کلام کو پیش کیا تاہم بعد میں مہ لقاء چندابائی کے بارے میں قائم کردہ اس خیال کی تردید ہوگئی ۔ بہر حال اس تاریخی باؤلی کی حالت انتہائی شکستہ ہوگئی کمانوں میں خود رو پودے اور جھاڑیاں اُگ آئی ہیں جس کے باعث ان میں دراڑیں پیدا ہورہی ہیں ۔ اس کی سیڑھیوں اور کمانوں کو دیکھنے سے اس بات کا گمان ہوتا ہے کہ کبھی یہ مقام تہذیبی راتوں کا مرکز ہوا کرتی تھی ۔ حال ہی میں ایفلو ہیرٹیج کنزرویشن کمیٹی ایفلو تحفظ آثار کمیٹی کی شریک بانی کرسٹینا کیانٹن نے اس غیر معمولی تاریخی آثار کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ میں تاریخی باولی کے تئیں شعور کے فقدان کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایفلو یونیورسٹی میں جہاں کہیں تعمیری کام ہوتا ہے اس کا ملبہ اور کوڑا کرکٹ اس باؤلی کے پاس لاکر پھینک دیا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے لیے ریاستی محکمہ آثار قدیمہ پر باؤلی کے تحفظ کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ تاریخی باؤلی کے تحفظ کے لیے کوئی بھی قدم اٹھنے کے وہ مجاز نہیں ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل طلبہ نے باولی کی صفائی کا بیڑا اٹھایا تھا اور اس دوران شراب کی خالی بوتلیں اور پلاسٹک کی ناکارہ اشیاء وغیرہ نکالی گئیں تھیں تاہم باؤلی میں ملبہ اور دیگر کچرا اس قدر زیادہ ہے کہ سارا پانی آلودہ ہوچکا ہے اور فی الوقت یہ مچھیروں کے مرکز افزائش میں تبدیل ہوچکا ہے ۔

آپ کو بتادیں کہ 90 کے دہے تک بھی یہ تاریخی منظر عام پر نہیں آئی تھی بلکہ کئی ٹن مٹی تلے دبی ہوئی تھی لیکن سابق وائس چانسلر پرمود تالگیری کے دور میں اس کا پتہ چلا اور اس کی ایک تہذیبی و تاریخی آثار کی حیثیت سے تزئین نو کی گئی ۔ یہاں پر تہذیبی و ثقافتی پروگرامس بھی منعقد کئے گئے ۔ سال 2008 میں باولی کو INTACH کا درجہ دیا گیا لیکن افسوس کہ تاریخی اور فن تعمیر کی شاہکار یہ باؤلی گندے پانی کے گڈھے میں تبدیل ہوگئی ۔ اس سلسلہ میں INTACH کے ذمہ داروں کو بھی حرکت میں آنا چاہئے ۔ ورنہ اس کے وجود کا کوئی فائدہ ہی نہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اس سے قبل بھی حیدرآباد کی ان تاریخی باولیوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ پیش کی گئیں تھیں جسے جان بوجھ کر تباہ و برباد کردیا گیا یا پھر ان کا وجود مٹایا جارہا ہے ۔ سیاست کی توجہ دلانے پر فلک نما بس ڈپو میں 128 سالہ قدیم باؤلی کے علاوہ نظام کالج کی تاریخی باولی کا کوئی پرسان حال نہیں جب کہ ایل بی نگر ( سلطان نگر ) باولی کو پوری طرح مٹی میں دفن کرتے ہوئے اس پر ناجائز مندر تعمیر کرلی گئی ۔ اس پر بلدیہ اور محکمہ آثار قدیمہ دونوں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ کاش شہر میں تاریخی آثار کے تحفظ کے لیے کوئی تحریک شروع ہوتی جس سے ایسے تاریخی آثار کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ۔۔

TOPPOPULARRECENT