Tuesday , November 21 2017
Home / پاکستان / ایف 16 معاملت… ہندوستان کے ردعمل پر پاکستان کو مایوسی

ایف 16 معاملت… ہندوستان کے ردعمل پر پاکستان کو مایوسی

اسلام آباد ۔ /14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے آج کہا کہ اس (پاکستان) کو آٹھ ایف ۔ 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت سے متعلق امریکہ کے فیصلہ پر ہندوستان کے ردعمل سے ’حیرت اور مایوسی ‘ ہوئی ہے ۔ پاکستان نے یہ استدلال بھی پیش کیا کہ ہندوستان ، دفاعی آلات و اوزار کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے اور اس کے اسلحہ کا ذخیرہ کافی بڑا ہے ۔ پاکستان نے اوباما انتظامیہ کے اس نظریہ اور فیصلہ کا اعادہ بھی کیا کہ (ایف ۔ 16 طیاروں کے ) حصول سے دہشت گردی کی سرکوبی کیلئے اس ملک کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا ۔ میڈیا کے سوالات کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کی بات سے جاری کردہ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’حکومت ہند کے ردعمل پر ہمیں حیرت اور مایوسی ہوئی ہے ۔ ان (ہندوستان) کی فوج اور اسلحہ کا ذخیرہ کافی بڑا ہے اور وہ (ہندوستان) دفاعی آلات و اوزار کے سب سے بڑے درآمد کنندہ ہیں ‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جہاں تک ایف ۔ 16 طیاروں کی فروخت کا تعلق ہے دہشت گردی کے خلاف مقابلہ کی مہم میں پاکستان اور امریکہ قریبی تعاون کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔ امریکی ترجمان واضح طور پر اعلان کرچکے ہیں کہ فروخت کا مقصد ضرب کاری کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے ‘‘ ۔ پاکستان کا ردعمل ایسے وقت منظر عام پر آیا جس سے ایک دن قبل ہندوستان نے نئی دہلی میں متعینہ امریکی سفیر رچرڈ ورما کو طلب کرتے ہوئے پاکستان کو تقریباً 700 ملین امریکی ڈالر مالیتی نیوکلیر صلاحیتوں کے حامل آٹھ ایف ۔ 16 لڑاکا طیارے فروخت کرنے سے متعلق اوباما انتظامیہ کے فیصلہ پر اپنی ناخوشی اور مایوسی کا اظہار کیا تھا ۔ معتمد خارجہ ایس جئے شنکر نے رچرڈ ورما کو ساؤتھ بلاک طلب کیا تھا ۔ جئے شنکر نے 45 منٹ کی بات چیت کے دوران پاکستان کو امریکی فوجی امداد پر ہندوستان کی تشویش سے مطلع کیا تھا ۔ نئی دہلی کا احساس ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امریکی فوجی مواد مخالف ہند سرگرمیوں کے لئے استعمال ہوسکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس قسم کی فوجی امداد پاکستان کو مزید حوصلہ مند بناسکتی ہے ۔ ہندوستان نے گزشتہ روز امریکہ کے اس استدلال سے بھی اتفاق نہیں کیا تھا کہ اس قسم کے اسلحہ کی فراہمی سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مقابلہ میں مدد ملے گی ۔

TOPPOPULARRECENT