Monday , December 18 2017
Home / مضامین / ایلان کُردی کی روح سے معذرت کے ساتھ!

ایلان کُردی کی روح سے معذرت کے ساتھ!

صابر علی سیوانی
ایلان کُردی کے نام سے بھلا کون ذی حس شخص واقف نہیں ہوگا ۔ یہ وہی تین سالہ بچّہ ہے جسے شامی سیاست کا شکار ہونا پڑا ۔ ایلان کُردی کے سرخ ٹی شرٹ ، نیلے رنگ کی ہاف پینٹ اور کالے جوتوں میں ترکی کے سمندری ساحل پر اوندھے منہ مردہ حالت میں پڑے جسم کو دنیا کے لاکھوں حساس انسانوں نے دیکھا ۔ پوری دنیا اس تصویر کو دیکھنے کے بعد انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔ ایلان کُردی ایک ایسا بچہ تھا جس نے دنیا کو ٹھیک سے نہیں دیکھا ، لیکن اس نے مرکر پوری دنیا خصوصاً یوروپی ممالک اور عرب ممالک کو بیدار کرنے کاکام ضرور کیا ہے ۔ ایلان کُردی نے پناہ گزینوں کی بے سر و سامانی اور ابتری کی جانب دنیا کی توجہ ضرور مبذول کرادی ہے ۔ کردی کی موت کو اقوام متحدہ کی موت سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ شام کی جو صورت حال ہے اس نے انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر بنادیا ہے ۔ لوگ اپنی زندگیوں کی سلامتی کے لئے محفوظ ٹھکانوں  اور مستحکم پناہ گاہوں کی تلاش میں بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اب تک پناہ گزینوں پر دنیا توجہ نہیں دے رہی تھی ،

لیکن ایلان کُردی کی موت نے پوری دنیا کو پناہ گزینوں کے متعلق سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ کُردی کی موت سے قبل بھی جو لوگ پوری دنیا میں بڑھتے پناہ گزینوں کے گمبھیر مسئلے کے تئیں حساس اور فکرمند تھے ، انھوں  نے اس مسئلے کے حل کے لئے آؤٹ آف دی باکس یعنی لیک سے ہٹ کر تجاویز پیش کئے ہیں ، جن پر سنجیدگی سے غور وفکر کی ضرورت ہے اور جس کا یہاں جائزہ لینا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر کیلی فورنیا یہودی ۔ امریکی رئیل اسٹیٹ ڈیولپرجیسن بوجی نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے لئے ایک علحدہ ملک کا قیام عمل میں لایا جائے ، جس میں نہ صرف شام اور مشرق وسطی کے بحران زدہ علاقوں کے متاثرین پناہ لے سکیں ، بلکہ میانمار اور لاطینی ممالک کے پناہ گزین بھی وہاں اپنا محفوظ ٹھکانہ بناسکیں ۔ اس مجوزہ ملک کو دنیا کے رؤسا ، امراء اور حکومتیں معاشی طور پر امداد فراہم کرسکتی ہیں ۔ دوسری جانب مصر کے ارب پتی نگیت سوارس نے کہا ہے کہ وہ اٹلی اور یونان کے قریب ایک جزیرہ خریدنے  کے لئے تیار ہیں تاکہ اس میں ایسے لوگ پناہ لے سکیں ،جنھیں پناہ گناہ کی تلاش ہے ۔ اس طرح کی دوسری متعدد تجاویز اب منظر عام پر آرہی ہیں ، جو پناہ گزینوں کے مسئلے کا تدارک پیش کرنے کی کوشش ہیں ۔ یہ تجاویز اہم قدم کے طور پر دیکھی جاسکتی ہیں ۔

اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس طرح کی جو تجاویز روایتی طرز سے ہٹ کر سامنے آرہی ہیں ، وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی بہترین تجاویز ہیں اور اسے بڑی حد تک ممکن بھی بنایا جاسکتا ہے ، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ عرب ممالک نے آگے بڑھ کر اس طرح کی کوئی پیش کش نہیں کی ہے  ۔آج پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں ، جہاں آبادی کم ہے یا جہاں اتنی معمولی آبادی ہے کہ وہاں ایک نیا ملک جو بڑی آبادی پر مشتمل ہو ، بسایا جاسکتا ہے ۔ ایسے کم آبادی والے ممالک میں وسطی افریقہ ، آسٹریلیا ، کناڈا اور دیگر متعدد جزائری علاقے شامل ہیں جہاں آبادی بہت کم ہے یا تقریباً نہیں کے برابر ہے ۔ ان مقامات پر ان پناہ گزینوں کو آباد کیا جاسکتا ہے جو پوری دنیا میں پناہ گاہ کی تلاش کے خواہشمند ہیں  ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تجاویز عملی طور پر قابل قبول ہوسکتی ہیں ؟
اس سوال کے جواب سے پہلے آپ کو یہ بات جان لینی چاہئے کہ جو لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ادھر اُدھر بھٹک رہے ہیں ، غیر قانونی طور پر سمندری راستوں سے محفوظ ٹھکانوں پر جانے کے لئے رخت سفر باندھ رہے ہیں ، اپنی زندگی کو خطرات اور جوکھم میں ڈال رہے ہیں  ، ان میں سے تو بہت سے ایسے ہیں ، جن کی جانیں اس کوشش میں چلی جاتی ہیں اور کسی کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا ۔ المیہ تو یہ ہے کہ وہ جن ممالک میں بے یار و مددگار پہنچتے ہیں ، وہاں بھی ان کے لئے کئی قسم کے مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان مسائل کا تعلق معاشی اور ثقافتی امور سے ہوتا ہے ۔ مذہبی اعتبار سے بھی وہ نہایت افسوسناک اور دردناک مسئلہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ حال ہی میں جو پناہ گزین مسلم ممالک سے جرمنی اور دیگر یوروپی ممالک میں منتقل ہوئے ہیں  ، ان میں ہزاروں کی تعداد ایسی ہے ، جنھوں نے اسلام مذہب کو چھوڑ کر عیسائی مذہب قبول کرلیا ہے ۔ جو لوگ ارتداد کا شکار ہوئے ہیں ان کی یہ مجبوری تھی ، کیونکہ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کریں ۔ مجبوری اور بے بسی انسان کو کیا کیا نہیں کراتی ہے ۔ کیونکہ ان پناہ گزینوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اپنے وجود کی بقا کا ہے ۔ اس لئے وہ کچھ بھی کرنے اور کچھ بھی سہنے کو تیار ہیں ۔ دوسری جانب داعش  نے پناہ گزینوں کو مغربی ممالک کا رخ کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے اور اسے ’’گباہ کبیرہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ بھی کہا ہے کہ مسلمان اس عمل کے ذریعہ عظیم گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنے مذہب کو تبدیل کررہے ہیں اور انھیں وہاں شراب اور منشیات کا خطرہ لاحق رہے گا۔

المیہ تو یہ ہے کہ آج دنیا میں جن 22 ممالک میں پناہ گزینوں کے مسائل ہیں، ان میں سے 18 ایسے ممالک ہیں ، جہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے ، یعنی یہ ممالک مسلمانوں کے نام سے موسوم ہیں ۔ مسلم ممالک میں وہ ممالک بھی شامل ہیں  ،جو اپنی تیل کی دولت کے باعث معاشی نقطہ نظر سے نہایت خوشحال ہیں ، لیکن افسوس اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان مسلم ممالک میں سے کسی بھی ملک میں عصری ہتھیاروں کی تیاری عمل میں نہیں آتی ہے ۔ یہ ہتھیار مغربی ممالک سے ہی خانہ جنگی اور دہشت پھیلانے کے لئے منگائے جاتے ہیں ، لیکن جب ان ہتھیاروں کی وجہ سے امن و امان متاثر ہوتا ہے اور پناہ گزینی کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو ایسی حالت میں ہتھیاروں کی سربراہی عمل میں لانے والے مغربی ممالک ہی انسانی اقدار کی دہائی دیتے ہوئے لوگوں کو پناہ دینے کی باتیں کرتے ہیں ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جو مالدار عرب ممالک ہیں ، وہ اپنی پناہ میں کسی کو بھی نہیں لیتے ہیں ۔ ایسے ملکوں میں سعودی عرب اور بحرین وغیرہ شامل ہیں ۔
سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ آخر پناہ گزینوں کا مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے ؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تناظر میں بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری ناکام کیوں ہورہی ہے ؟ اقوام متحدہ اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی کیوں نہیں دکھاتا ہے ؟ عرب ممالک اس کو اپنا مسئلہ کیوں نہیں تسلیم کرتے ہیں ؟ اس طرح کے نہ جانے کتنے سلگتے ہوئے سوالات ہیں ، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ایک مثال الجیریا کی پیش کی جاسکتی ہے جہاں حال ہی میں انتخابات اختتام پذیر ہوئے ہیں ، جس میں ایک مسلم پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ، لیکن مغربی  ممالک خصوصاً فرانس نے یہ کہتے ہوئے اسے اقتدار میں آنے سے روک دیا کہ اس سے انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوگا ۔ نتیجۂ کار الجیریا میں فی الوقت خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ علاوہ ازیں امریکہ نے نام نہاد ’’ویپنس آف ماس ڈسٹرکشن‘‘ (ڈبلیو ایم ڈی) کو ختم کرنے کے نام پر عراق میں دراندازی کی ، صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کیا اور عراق میں ایسی غیر یقینی صورتحال پیدا کردی کہ اسلامک اسٹیٹ کی شکل میں ایک شدت پسند بلکہ دہشت گرد تنظیم وجود میں آگئی ۔ کچھ اسی طرح کی حالت شام میں ہے ، جہاں بشار الاسد کی آمرانہ حکمرانی کو غیر ضروری طور پر حمایت دی جارہی ہے ،جس کی وجہ سے شام میں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ، اور شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ دراصل بات یہ ہے کہ مغربی ممالک اپنے ہتھیاروں کو فروخت کرنے اور تیل کی دولت پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے ہی پناہ گزینوں کے مسئلہ کو پیدا کررہے ہیں ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اتنا بھی حق حاصل نہیں رہ گیا ہے کہ وہ اپنے تیل کی قیمتیں خود متعین کرسکیں ۔اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟

حالت تو یہ ہوگئی ہے کہ آپ اگر مہنگائی ، کرپشن اور پناہ گزین جیسے مسائل پر سنجیدگی سے غور کریں تو اس سب کے پیچھے سیاست کی ہی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔ شامی پناہ گزینوں کے مسئلے کے پیچھے بھی سیاست ہی کارفرما ہے ۔ موجودہ پناہ گزینوں کے مسئلے کی وجہ امریکی سازش اور اس کی مفاد پرستی بلکہ موقع پرستی صاف نظر آرہی ہے ۔ بہرحال اب اسرائیل کے طرز پر پناہ گزینوں کے لئے ایک علحدہ نیا ملک بنانے کی جو تجویز پیش کی جارہی ہے ، وہ نہ صرف ناقابل عمل ہے بلکہ اس سے بھی اسی طرح کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جیسے کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ یاد رہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کم و بیش 36 ممالک سے یہودی پناہ گزینوں کو اٹھا کر فلسطین کی سرزمین پر بسایا گیا تھا اور اس ملک کو اسرائیل کا نام دے دیا گیا ۔ یہاں پر برسوں سے خانہ جنگی کی صورت حال دیکھی جارہی ہے ۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان اکثر و بیشتر اوقات لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں ، جس میں عام بے گناہ شہریوں کی جانیں تلف ہوتی ہیں ۔

مصر کے ارب پتی بوجی سے متاثر ہو کر نگیت سوارس نے کہا ہے کہ وہ یونانی یا اطالوی جزیرہ خریدنے کو تیار ہیں ، جہاں پناہ گزین اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ سوارس لگ بھگ تین بلین ڈالرس کے مالک ہیں اور وہ ایک جزیرہ خریدنے کے لئے 10 سے 100 ملین ڈالرس تک خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ رابندرناتھ ٹیگور کے ایک فقرے کا حوالہ دیتے ہوئے سوارس کا کہنا ہے کہ ’’آپ سمندر کو دیکھتے رہنے سے سمندر کو پار نہیں کرسکتے‘‘ ۔ جزیرہ خریدنے کا خیال پاگل پن کی علامت تصور کیا جاسکتا ہے ، لیکن یہ اس مسئلے کا حل ضرور ہے ، بھلے ہی وقتی طور پر ہی کیوں نہ ہو ۔ اس طرح کی تجاویز کے حق میں متعدد دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں ، لیکن غور کرنے کی بات تویہ ہے کہ جب روایتی طریقے کام نہ آرہے ہوں تو ایک نئے نظریئے کو عملی شکل دینے میں برائی ہی کیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں پوری طرح کامیابی نہ مل سکے لیکن اس پر عمل آوری کے ذریعہ ایک نیا تجربہ تو کیا ہی جاسکتا ہے ۔ اس لئے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بوجی سوارس کے نظریئے اور تجویز کی حمایت کرنے کے لئے اور بہت سے لوگ سامنے آئیں تو اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا ۔
پاکستان جیسے مسلم ملک سے آکر کناڈا میں بسنے کی خواہش رکھنے والے فرضی پناہ گزینوں کے مسائل سے کناڈا نبرد آزما ہوتا رہا ہے ۔ اس کے باوجود  کناڈا کا معاشرہ پناہ گزینوں کو اپنے یہاں پناہ دینے کا مطالبہ کررہا ہے ۔ یوروپی ممالک میں بھی ایسی ہی مانگ اٹھ رہی ہے ۔ شاید یہ مانگ عرب معاشرے کے مقابلے میں یوروپی ممالک کے زیادہ روشن خیال ، انسانیت نواز اور حساس ہونے کی وجہ سے ہے ، لیکن اصل مسئلہ تو ان علاقوں کا ہے  ،جہاں کے لوگ اپنی اپنی جانیں بچانے کے لئے اپنے اصل ٹھکانوں کو چھوڑ کر مہاجرت کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں ۔ یہاں کی حکومتیں ناکام ہوگئی ہیں ، اور معاشرتی تعلقات بھی ناکام ہوگئے ہیں ۔ شام اور عراق جیسے ممالک میں جہاں بھی اسلامک اسٹیٹ ، القاعدہ یا دیگر نسلی تشدد پسند تنظیمیں متحرک ہیں ، وہاں اس وقت مسلسل جنگ پسند گروہوں کے درمیان کسی بھی طرح کے سمجھوتے یا مذاکرات جیسے عوامل کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مسلم پناہ گزینوں کے لئے عرب ممالک کی حمیت بیدار کیوں نہیں ہورہی ہے ؟ کم و بیش 56 عرب ممالک میں سے کسی بھی ملک نے بھی یہ پیشکش نہیں کی ہے کہ وہ ان مسلم پناہ گزینوں کو جو شام کی سرحد اور دوسرے علاقوں کو عبور کرتے ہوئے محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں ، انھیں پناہ دی جائے یہ ان ممالک کی بے حسی اور غیر انسانی عمل نہیں تو اور کیا ہے ۔ جبکہ اسلام تو ہر مومن کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے اور یہ مسلم ممالک جو اسلام کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہیں ، اس مشکل گھڑی میں اپنے مسلم بھائیوں کا ہاتھ کیوں نہیں تھام رہے ہیں ۔ کیا ان کی غیرت مرچکی ہے؟ ۔ کیا ان کی حمیت پر انجماد طاری ہوچکا ہے ؟۔ کیا ان کی انسانیت مرچکی ہے ؟ اگر نہیں تو اب بھی وقت ہے وہ آگے بڑھ کر انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پناہ گزینوں کی مدد کو آگے بڑھیں ورنہ زمانہ انھیں معاف نہیں کرے گا اور ان پناہ گزینوں کے ارتداد کا گناہ ان کے سروں پر بھی جائے گا۔ ویسے بھی شام کی سرحد سے عرب ممالک کی دوری بہت کم ہے ۔ خدا کرے ان پناہ گزینوں کے مسئلے کا کوئی نہ کوئی مثبت حل جلد نکل آئے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT