Wednesday , December 19 2018

ایل او سی فائرنگ کا زخمی فوجی فوت، مہلوک کی تعداد 20 ہوگئی

جموں، 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے شاہپور سیکٹر میں 4 فروری کو زخمی ہونے والا فوجی اہلکار ادھم پور اسپتال میں ایک ہفتے تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اتوار کو دم توڑ گیا۔ فوجی اہلکار کی موت ہوجانے کے ساتھ سرحدوں پر گذشتہ 42 دنوں کے دوران گولہ باری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی ہے ۔ ایک دفاعی ترجمان نے بتایا کہ ‘گونر کشور کمار منا’ نامی فوجی اہلکار 4 فروری کو پونچھ کے شاہپور سیکٹر میں آہنی ریزے لگنے سے زخمی ہوا تھا۔ اسے خصوصی علاج ومعالجہ کے لئے کمانڈ ملٹری اسپتال ادھم پور منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا ‘زخمی فوجی اہلکار ادھم پور اسپتال میں ایک ہفتے تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اتوار کو دم توڑ گیا’۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ مہلوک فوجی کا تعلق ریاست بہار کے ضلع چوتھم سے ہے ۔ اس کے پسماندگان میں والدہ ٹولو دیوی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق گونر کشور کی موت ہوجانے کے ساتھ ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر گذشتہ 42 دنوں کے دوران گولہ باری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی ہے ۔ اس دوران قریب 75 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پونچھ اور راجوری اضلاع میں گذشتہ تین دنوں کے دوران پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین زینب بی اور پروینہ اختر ہلاک جبکہ حوالدار بلبیر سنگھ ، حوالدار لکھویندر سنگھ اور لانس نائیک چرنجیت سنگھ نامی تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے ۔ ریاستی حکومت کے مطابق پاکستان کی طرف سے گذشتہ تین برسوں کے دوران 829 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ تین برس کے اس عرصے کے دوران ریاست بھر میں 41 عام شہری اور 55 سیکورٹی فورس اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ معلومات ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 6 فروری کو قانون ساز کونسل میں ایم ایل سی نریش کمار گپتا کے ایک تحریری سوال کے جواب میں کہیں۔

TOPPOPULARRECENT