Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / ایل او سی کے پارتجارت کی جانچ کیلئے این آئی اے میں ٹیکس عہدیداروں کی شمولیت

ایل او سی کے پارتجارت کی جانچ کیلئے این آئی اے میں ٹیکس عہدیداروں کی شمولیت

علیحدگی پسند گروپوں کو رقمی وصولیات پر نظر، ہند ۔ پاک تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی روکنا اہم مقصد

نئی دہلی 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں علیحدگی پسند گروپوں کی جانب سے رقم کی مبینہ وصولی اور ایل او سی کے پار تجارت کی تحقیقات کے لئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ٹیکس عہدیداروں کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ عہدیداروں نے آج کہاکہ دہشت گردی کے لئے فینانس کی فراہمی کے سلسلے میں اِس روٹ کو بڑا ذریعہ مانا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکز نے انڈین ریونیو سرویس (کسٹمز اینڈ سنٹرل اکسائز) کے عہدیداروں کو این آئی اے کو کچھ مدت کے لئے منتقل کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ کئی سطحوں پر تجارتی لین دین کی تحقیقات میں متعلقہ حکام کی مدد کی جاسکے۔ دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کے لئے وفاقی ایجنسی نے ڈسمبر میں ایک کیس درج رجسٹر کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقہ سلام آباد اور جموں خطہ کے ضلع پونچھ میں چکندا باغ کے ذریعہ ہونے والی تجارت کا جائزہ لیا جاسکے۔ عہدیداروں نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہاکہ آئی آر ایس عہدیداران رقمی لین دین کی حقیقت کا پتہ چلانے اور مبینہ بے نامی جائیداد کا پتہ چلانے اور وادی میں بعض علیحدگی پسند گروپوں کی جانب سے لین دین کی جانچ کے لئے اپنی خدمات پیش کریں گے۔ وزارت فینانس نے حال ہی میں ایک آئی آر ایس آفیسر کو ابتدائی طور پر چار ماہ کی مدت کے لئے این آئی اے میں شامل ہونے کی اجازت دی تھی تاکہ ایجنسی کی جانب سے تحقیقات والے کیسوں میں اپنا تعاون پیش کرسکیں۔ یہ مقدمات سرحد پار مختلف نوعیت کی تجارت سے متعلق ہیں۔ توقع ہے کہ مزید چند عہدیداروں کو ایجنسی میں شامل ہوکر کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ آئی آر ایس عہدیداروں کی مہارت، سرویس ٹیکس، سنٹرل ٹیکس (جسے اب گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس میں ملادیا گیا ہے) اور کسٹم ڈیوٹی سے بچنے کی کوششوں کا پتہ چلانا ہے۔ وزارت فینانس کے دو کلیدی انٹلی جنس ایجنسیاں ڈائرکٹوریٹ آف ریونیو انٹلی جنس اور ڈائرکٹوریٹ جنرل آف گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس انٹلی جنس ہیں جہاں یہی آفیسرس متعین ہیں۔ این آئی اے نے دعویٰ کیاکہ اِسے اب تک اپنے کیس کے سلسلہ میں منعقدہ دھاوؤں میں ضبط شدہ تجارت سے متعلق ضخیم دستاویزات کے تجزیے سے اہم سراغ حاصل ہوئے ہیں۔ ایک کیس باداموں کی غیر حقیقی قیمت کی صراحت کرنے اور 250 تا 300 روپئے فی کیلو کے برخلاف 600 روپئے تا 650 روپئے فی کیلو لانے سے متعلق ہے۔ عہدیداروں نے کہاکہ تجارت میں اِس قدر بڑا مارجن مشتبہ ہے جسے دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کئے جانے کا اندیشہ ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایل او سی کے پار تجارتی معاہدے کے مطابق کشمیر کی دونوں طرف کاشت ہونے والی اشیاء کا تبادلہ کیا جائے گا۔ اِن پراڈکٹس میں پاکستان مقبوضہ کشمیر کے حصوں کی پیداوار والے بادام شامل ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے لئے 21 آئٹمس کی فہرست مرتب ہے۔

TOPPOPULARRECENT