Saturday , November 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / ایمان وایقان کے حسیں جلوے

ایمان وایقان کے حسیں جلوے

اسلام کا پیغام ابررحمت ہے جودلوں کی مردہ زمینوں کو زندگی بخشتاہے لیکن شرط یہ ہے کہ دلوں کی زمین نرم ہو،وحی الہی کی روحانی بارش کے قطرات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو،آسمان سے نازل ہونے والی بارش رحمت کے قطرات جیسے نرم وقابل کاشت زمین کو سیراب کرتے ہیں تو وہ قطعہ ء زمین لالہ زاربن جا تا ہے اورایسے گل وگلزارمیں تبدیل ہوجاتا ہے جو قلب ونظرکیلئے راحت فزا ثابت ہوتا ہے۔ایمان ویقین کا نورجب دلوں میں راسخ ہوتاہے توپھرکوئی آزمائش وامتحان اسکو راہ حق سے نہیں ہٹا سکتی ،دہکتے انگارے روحانی راحت کا گل وگلزارمحسوس ہونے لگتے ہیں۔
آج بھی ہوجو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
کا منظردنیا کو دکھایا جاسکتاہے۔
عقل وخرد کی منزلوں کو عبورکرکے اسکو محوتماشہ بنائے رکھ کر اللہ کے محبوب دوست حضرت سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام نے محبت ووارفتگی حق کے جذبات سے سرشاریہ منظردنیا کو دکھایا ہے ۔
بے خطر کودپڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محوتماشا ء لب بام ابھی
امتحان وآزمائش کی گھڑیوں میں حق کی رضاء کی طلب و حق کے منشاء کی تکمیل کیلئے سرتسلیم خم کرکے ملت ابراہیمی کوایک عظیم اسوئہ دیا ہے،حق سبحانہ نے انکے تسلیم ورضاء کو قبول فرماکر خلعت کا تاج انکے سرپر رکھا ہے۔ایمان وایقان سے سرشارزندگی گزارنے والے ہی حقیقی معنی میں تاج شرافت کے مستحق ہوسکتے ہیں،تسلیم ورضاء کی ایمان افروز،روح پرورحیات ابراہیمی سے ملت حنیف کو یہ پیغام ملتا ہے ۔آسیہ بنت مزاحم جوفرعون کی بیوی تھی انکا ایمان افروزواقعہ ایمان وایقان میں تازگی بخشتا ہے،موسی علیہ السلام کی پیدائش اورفرعون کے ظلم سے ان کی حفاظت اورفرعون ہی کے گھر انکی پرورش پھرقوم فرعون کو فرعون کے ظلم وجورسے نجات بخشنے کی تفصیل سورۃ القصص کے ابتدائی چندرکوع میں ملتی ہے جوکرشمات قدرت کا ایک عظیم معجزہ ہے۔
الغرض جب موسی علیہ السلام بڑے ہوگئے اوراللہ نے انکو نبی بنادیا اورموسی علیہ السلام کے ہاتھ پر معجزات کا اظہارہونے لگا تو آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا دل وجان سے مسلمان ہوگئی اورفرعون کے مقابلہ میں ہمیشہ وہ موسی علیہ السلام کی طرفداررہی ،بالآخرفرعون کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ آسیہ مزاحم رضی اللہ عنہا موسی علیہ السلام پر ایمان لاچکی ہے اورموسی علیہ السلام کے خداکو اپنا خدامانتی ہے اوراسے (فرعون کو) اپنا خداتسلیم نہیں کرتی پھرکیا تھا اس دشمن خدانے آسیہ پر ظلم ڈھانے کی ٹھان لی ،اس ظالم نے اپنی رفیق حیات کے ساتھ بیتے محبت بھرے لمحات وسکینت آمیز اوقات کو بھی یک لخت فراموش کردیا ،انتقام کی انتہائی حدوں کو عبورکرکے اپنی مونس وغمگسار نیک بی بی آسیہ کے دونوں ہاتھوں اوردونوں پیروں میں میخیں ٹھونک دیں اور چلچلاتی دھوپ میں ڈال دیا، ظلم وقہرکا یہ نظارہ سیلم الفطرت انسانوں کیلئے ناقابل دید،دلوں کو رنج وغمزدہ اورآنکھوں کو اشکبارکررہا تھالیکن قربان جائیے آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا کے ایمان وایقان کے کہ اس نے ہنستے مسکراتے اس مصیبت کو جھیل لیا ،اللہ کی نیک بندی اللہ کے حضور حاضری کے شوق کی لذت میں کھوئی ہوئی ’’چوںمرگ آید تبسم بر لب اوست‘‘کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ لبوں پر مسکراہٹ دیکھ کر منکرخدا بزعم خودخدا (العیاذباللہ)فرعون کو دھوکہ ہوا اوروہ یہ سمجھ بیٹھاکہ آسیہ دیوانی ہوگئی ہے یا جنون کا دورہ اسکو بے حس کردیا ہے،لیکن وہ جو فکرحق و فکرصحیح سے محروم ہووہ کیا جانے ایمان وایقان کی لذت کو۔اِدھر دشمن خدا ظالم کا انسانیت کو شرمندہ کرنے والا ظلم تھا اُدھر اللہ سبحانہ سے لقاء وتکلم کی ایمان افروز کیفیات سے سرشار اللہ کی بندی اللہ کے حضورشاداں وفرحاں دل کی گہرائیوں سے مصروف مناجات تھی۔’’الہٰ العالمین مجھ نا چیز بندی کیلئے اپنی حریم ناز کے قرب میں ایک محل تعمیرفرمادیجئے،اورفرعون کے منحوس وجوداوراسکی بداعمالیوں کی نحوست اوراسکی ستم رانیوں کی مصیبت سے مجھے بچالیجئے‘‘۔ (التحریم:۱۱)حدیث پاک کی روسے اللہ سبحانہ نے اس نیک مومنہ بندی کی دعا کی قبولیت کے آثاراس پرجنت میں اسکا محل منکشف فرماکر ظاہر فرمادئیے ،جس سے انکی ساری کلفتیں دورہوگئیں ۔ایمان ویقین کی منزل جب اپنی معراج پالیتی ہے تو محبوب حقیقی کے دیدارکی تمنا عروج پر ہوتی ہے پھرظلم وستم کی کلفتیں راحت ورحمت کا چمن زارمحسوس ہونے لگتی ہیں۔شوق دیدارمیں کلفتیں کافورہوجاتی ہیں ،اللہ سبحانہ کی بے پناہ رحمتوں کے نزول کی ٹھنڈک ظلم کی راہ میں پہونچے زخموں پر مرہم سے زیادہ اثراندازہوتی ہے،محبوب حقیقی کے دیدارکی تمنا اوراورراحتوں ،لذتوں سے بھی بے نیاز کردیتی ہے۔ جذبہ شوق جب بے تاب ہوجائے اورمحبوب حقیقی کی محبت کامرانی کی معراج بن جائے تو پھر دنیا اوردنیا کے راحت وآرام کی چاہتوں کا کوئی تصورکہاں باقی رہ سکتاہے ۔

قرآن پاک میں اس سے متصل اللہ سبحانہ نے مریم بنت عمرا ن علیہا السلام کا ذکرفرمایا ہے جوخداترس للہیت سے معمورقلبی کیفیات رکھنے والے والدین کی پارسابیٹی تھی ،بیت المقدس کی خدمت کیلئے انکو وقف کردیا گیا تھا،ساری زندگی یادالہی میں بسرہوتی رہی اوراللہ کے پیارے نبی حضرت زکریا علیہ السلام جیسی مبارک ہستی کی نگرانی وسرپرستی جن کو حاصل تھی ۔اللہ سبحانہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بن ماں باپ کے تخلیق فرماکر اپنی معجزانہ شان خلاقیت کا اظہارفرمایاتھا اب قدرت کو اپنے ایک اورمعجزانہ کرشمہ کا اظہارمقصود تھاکہ وہ بغیرباپ کے بھی کسی پاکیزہ بندی کی بطن سے اولاد کو جنم دے سکتا ہے، اسکے لئے اللہ سبحانہ نے پاک بی بی مریم علیہا السلام کا انتخاب فرمایا ،چنانچہ وہ کرشمہ قدرت سے حاملہ ہوگئی اورایک بہت ہی تندرست وخوبصورت بچہ کو جنم دیا ،قوم نے اتہامات کے طوفان کھڑے کردئیے ،طعن وتشنیع کے تیربرسائے ،دشنام طرازیوں کا ایک ہواکھڑاکردیا ،لیکن اللہ کی یہ نیک بندی تسلیم ورضا کا پیکربنی ہوئی کرشمہ قدرت کے مظاہر دیکھتی رہی ،امتحان وآزمائش کی ان سخت ترین گھڑیوں میںوہ پیکرتسلیم ورضا اللہ کی نیک بندی  اللہ سبحانہ وتعالی کی رحمتوں کا مشاہدہ کرتی رہی جس سے اسکے ایمان وایقان کے نورمیں اضافہ ہوتا چلاگیا ، حق سبحانہ نے اس پاکیزہ ،عفیف خداترس بندی کی عفت وپاکدامنی کی شہادت قرآن پاک میں محفوظ فرمادی۔’’مریم بنت عمران کی مثال بیان فرمائی کہ جس نے اپنی عزت وناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی اوراس (مریم)نے اپنے رب کے کلمات اوراسکی کتابوں کی تصدیق کی ،اوروہ قانتین یعنی عبادت گزاربندیوں میں تھی‘‘(التحریم:۱۲)قیامت تک آنے والی ساری انسانیت کیلئے اس واقعہ میں اللہ سبحانہ نے قدرت کے مقررکردہ مادی اسباب کے سہارے(باپ )کے بغیر قدرت خداوندی کی تخلیق کا مظہر حضرت عیسی علیہ السلام کو بنا یا ہے ۔اس سارے واقعہ میں بی بی مریم علیہا السلام کی حق کی جناب میں سپردگی اسکی مشیت کے آگے سرتسلیم خم کرنے ایمان وایقان کی منزلوں پر قائم رہتے ہوئے حق کی رضاء کیلئے دشنام طرازیوں کے تیرسہتے ہوئے حق پرستانہ زندگی گزارنے کی مثال ملتی ہے۔
یہی ایمان وایقان کی روحانی کیفیات تھیں جو حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کوسخت گرمی کے موسم میں ریت کے گرم ریگزارے روحانیت کی راحت کا احساس دلا رہے تھے، اسی ایمان ویقین نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ پرروحانی راحت اوراخروی زندگی کی ابدیت اوراسکی ابدی نعمتوں کا منظرایسے کھول دیا تھا کہ تختہ دارپر اللہ کی رضا کیلئے خوشی خوشی جھول جانا آسان ہوگیا تھا۔ اسلام کی پہلی شہیدخاتون حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کادشمن اسلام کے نیزہ سے گھائل ہوکرجرعہ شہادت نوش کرنا اوراپنی جان ۔جان آفریں کے سپردکرنا، اخروی زندگی اوراسکی راحتوں پر ایمان ویقین رکھنے والوں کوراہ حق میں جذبہ شہادت کی دعوت حق دے گیا تھا۔ الغرض راہ ایمان پر ثبات قدم ، دین پر استقامت ،مشکل حالات میں حق کیلئے صبر، امتحان وآزمائش کی نازک گھڑیوں میںنماز وصبرسے استعانت اورعبدیت وبندگی کے تقاضوں کی تکمیل انسانی قلوب کو محبت حق کی جلوہ گاہ بنا دیتی ہے۔بشمول ہندوستان سارے عالم کی موجودہ صورتحال اسلام اورمسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش اورمنصوبہ بندی کا پتہ دیتی ہے،ان حالات میں ایمان وایقان کے یہ حسین جلوے روح ایمانی کو جلا بخشتے ہیں ،دین وایمان کے تقاضوں کو عزیزازجان رکھنے والوں کو امتحان وآزمائش کی نازک گھڑیوں میں حق کیلئے جینے اورمرنے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT