Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / ایمان کی تکمیل کیلئے اہل بیت سے محبت لازمایمان کی تکمیل کیلئے اہل بیت سے محبت لازم

ایمان کی تکمیل کیلئے اہل بیت سے محبت لازمایمان کی تکمیل کیلئے اہل بیت سے محبت لازم

اللہ رب العزت کا بے انتہاء شکر و احسان ہے کہ اُس نے ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے بے حساب انعامات ، اکرامات، نوازشات سے استفادہ کا موقع عنایت فرمایا، یقینا ایسے موقع پر ہر بندئہ خدا پر لازم و ضروری ہے کہ اُس مالک حقیقی کا ہر حال میں شکر ادا کرتے رہیں۔اس  مہینے میں دین ِمتین کی اشاعت و بقا کے لئے حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جس طرح سے راہِ خدا میں اپنا سر کٹوائے ہیں اسی طرح ہمیں بھی جینے کا موقع ملے اور اسلام کی بقا و اشاعت کا موقع ملے تو صرف اور صرف اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کو راضی کرنے، حبیب خدا احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت حاصل کرنے اور اپنی جان کو راہِ خدامیں نچھاور کرنے کی کوشش کریں گے۔خوف ِخدا کیلئے محبت رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم بے حد ضروری ہے، اور یہ بھی ذہن نشین کرلینا کہ محبت رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو حاصل کرنے کے لئے پہلے عترتِ محمدی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کرنا پڑیگا۔ عترت سے مراد اہل بیت اطہار ( یعنی محمد عربی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہم اجمعین ہیں ) سے لگاؤ اور وابستگی بہت ضروری ہے ۔ آج عترت محمدی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کیوں ضروری ہے اس کے متعلق کچھ احادیث شریفہ مختلف کُتب حدیث کے حوالے سے تحریر کی گئی ہیں۔ملاحظہ ہو:
٭ ’’حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہِ     رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم میں عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! قریش جب آپس میں ملتے ہیں تو حسین مسکراتے چہروں سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں سے ملتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے (یعنی جذبات سے عاری چہروں کے ساتھ) حضرت عباس فرماتے ہیں : حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم یہ سن کر شدید جلال میں آگئے اور فرمانے لگے : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بھی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اور میری قرابت کی خاطر تم سے محبت نہ کرے۔‘‘{احمد، نسائی}٭ ’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہ پڑھا اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں اگر میں نماز پڑھوں اور اس میں حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک نہ پڑھوں تو میں نہیں سمجھتا کہ میری نماز کامل ہوگی۔‘‘ {دارقطنی، بیہقی}٭  ’’حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو میرے بعد میری اہل کے لئے بہترین ہے۔‘‘ {حاکم، ابویعلیٰ}
٭ ’’حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: بے شک میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ رکھا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کے چاہنے والوں کو آگ سے چھڑا لیا ہے۔‘‘ {امام دیلمی}٭ ’’حضرت ابورافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمائے: اے علی ! تم اور تمہارے مددگار میرے پاس حوض کوثر پر چہرے کی شادابی اور سیراب ہوکر آئیں گے اور ان کے چہرے {نور کے سبب} سفید ہوں گے اور بے شک تمہارے دشمن میرے پاس حوض کوثر پر بد نما چہروں کے ساتھ اور   سخت پیاس کی حالت میں آئیں گے۔‘‘ {طبرانی}٭ ’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اہل بیت مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایک دن کی محبت پورے سال کی عبادت سے بہتر ہے اور جو اسی محبت پر فوت ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگیا۔‘‘ {دیلمی}٭ ’’حضرت ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟ تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: کہو: اے اﷲ تو درود بھیج، محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ازواج مطہرات اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذریتِ طاہرہ پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر اور برکت عطا فرما محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو اور آپ  صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ازواج مطہرات کو اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذریتِ طاہرہ کو جیسا کہ تو نے برکت عطا کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بے شک تو حمید مجید ہے۔‘‘ {متفق علیہ}٭ ’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو دوران حج عرفہ کے دن دیکھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم قصواء نامی اونٹنی پر سوار خطاب فرمارہے ہیں۔ پس میں نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑی ہے کہ اگر تم اُسے مضبوطی سے تھام لو تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور وہ چیز کتاب اﷲ اور میری عترت اہل بیت ہیں۔‘‘ {ترمذی، طبرانی}یادر رکھیں کہ ایمان کی تکمیل کیلئے اہل بیت مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت رکھنا لازم ہے۔[email protected]

TOPPOPULARRECENT