Friday , January 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / ایمان کی حلاوت اور آخرت کی بشارت

ایمان کی حلاوت اور آخرت کی بشارت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں گی، اس کو ان کی وجہ سے ایمان کی حلاوت نصیب ہوگی: (۱) ایک وہ شخص جس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبوب ہوں (یعنی جتنی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو، اتنی کسی سے نہ ہو) (۲) ایک وہ شخص جس کو کسی بندہ سے محب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں گی، اس کو ان کی وجہ سے ایمان کی حلاوت نصیب ہوگی: (۱) ایک وہ شخص جس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبوب ہوں (یعنی جتنی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو، اتنی کسی سے نہ ہو) (۲) ایک وہ شخص جس کو کسی بندہ سے محبت محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہو (یعنی جس سے وہ محبت کرتا ہے، وہ شخص اللہ والا ہے) (۳) ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کفر سے بچا لیا ہو (خواہ اس نے کفر سے توبہ کرلی ہو) اور کفر کی طرف لوٹنے کو اس قدر ناپسند کرتا ہو، جیسے آگ میں ڈالے جانے کو‘‘۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے متعلق سوال کیا، یعنی پوچھا کہ ’’ایمان کا افضل درجہ کیا ہے؟ اور وہ کونسے اعمال و اخلاق ہیں، جن کے ذریعہ سے اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟‘‘۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پس اللہ تعالیٰ کے لئے کسی سے تمہاری محبت ہو اور اللہ تعالیٰ ہی کے واسطے بغض و عداوت ہو (یعنی دوستی اور دشمنی جس سے بھی ہو، صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو)۔ دوسرے یہ کہ اپنی زبان کو تم اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگائے رکھو اور جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو، وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کرو اور جو چیز اپنے لئے ناپسند کرتے ہو، وہی دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرو‘‘۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں عرض کیا کہ ’’قیامت کب آئے گی؟‘‘۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: ’’تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟‘‘۔ اس نے عرض کیا: ’’میں نے اس کے لئے کوئی خاص تیاری تو نہیں کی، البتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میرے دل میں ہے‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم کو جس سے محبت ہے، تم اسی کے ساتھ رہوگے‘‘۔ اس حدیث شریف کے راوی بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے مسلمانوں کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا، جتنا کہ آپﷺ کی اس بشارت کے بعد انھیں حاصل ہوئی‘‘۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT