Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ایمبولنس کو تک راستہ نہیں دیا جارہا ہے

ایمبولنس کو تک راستہ نہیں دیا جارہا ہے

بے دھڑک ڈرائیونگ سے جان لیوا حادثے، بازار کے کھانے گھر آرہے ہیں
حیدرآباد 21 فروری (سیاست نیوز)ٹریفک جام اس وقت شہر کا ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے اور ٹریفک جام کی وجہ سے کافی مشکلات اور نقصانات ہورہے ہیں۔ بعض صورتوں میں تو زندگیاں جوکھم میں پڑرہی ہیں۔ معاشرہ میں بے حسی، بے رُخی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب ایمبولنس گاڑیوں کو بھی راستہ نہیں دیا جارہا ہے۔ ہر کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ ایمبولنس کو ہاسپٹل پہونچنے میں دیر ہوجائے تو مریض کی جان جاسکتی ہے۔ زندگی تباہ کن طور پر تیز رفتار ہوگئی ہے۔ ہر کوئی اپنے نشانہ کی طرف بھاگ رہا ہے۔ سڑکوں پر تیز رفتاری کی وجہ سے جان لیوا حادثے ہورہے ہیں۔ میانہ روی کی چال سب سے اچھی چال ہے۔ بے دھڑک ڈرائیونگ سے بھیانک حادثے ہورہے ہیں۔ سیل فون پر بات کرتے ہوئے گاڑی چلانے کے خلاف بیداری مہم کے نتائج صفر ہیں۔ وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ اسلام نے انسانوں کی ہر قدم اور ہر موڑ پر رہنمائی کی ہے لیکن اسلام کی تعلیم اور موجودہ مسلمانوں کے عمل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ حضرت خواجہ حسن بصریؒ نے صدیوں پہلے کہہ دیا تھا اسلام کتابوں میں رہ گیا ہے اور مسلمان قبروں میں آرام کررہے ہیں۔ اب نہ گھروں کا رہن سہن اسلامی ہے اور نہ بازار اور راستوں سے متعلق اسلامی تعلیم پر کوئی عمل ہورہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تو راستوں میں بیٹھنے سے منع کیا ہے اور بتادیا ہے کہ اگر راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو راستے کے حق ادا کرو اور راستے کے حق یہ ہیں کہ نظر نیچی رکھا کرو، کسی کو تکلیف نہ پہونچاؤ ، سلام کا جواب دو، نیک کام کرنے کا حکم دو اور بُرے کام سے روکتے رہو۔ فتنوں کے دور میں گھروں کو کشتی نوح بنانے کا حکم ہے۔ رات جلدی سونے صبح جلدی بیدار ہونے کا حکم ہے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ برکت صبح کے وقت ہے۔ برکت تمہارے بڑوں میں ہے ارشاد مبارک ہے کہ صبح دیر تک سونا رزق کو روکتا ہے۔ بازار میں کھانا ہلکے پن کی نشانی ہے۔ حالات حاضرہ یہ ظاہر کررہے ہیں کہ یا تو کھانا بازار میں ہورہا ہے یا بازار کا کھانا آن لائن بکنگ پر گھر آرہا ہے۔ فجر کے وقت مسلمانوں کے گھر قبرستان نظر آرہے ہیں۔ تہجد کے وقت تک نوجوان بازاروں میں سڑکوں پر چبوتروں پر کھانے پینے اور غپ شپ میں لگے ہیں۔ نظر نیچی رکھنا تو مسلمان بھول ہی چکے ہیں۔ سلام میں پہل کرنے کی سنت بھی رخصت ہورہی ہے۔ سلام میں پہل کرنے والا کمزور اور ضرورت مند سمجھا جارہا ہے۔ نیک کام کرنے کی تلقین کرنے اور بُرے کام سے روکنے کا فریضہ سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت محض حالات کا رونا رو رہی ہے اور بے دینی کا تماشہ دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم نیکیوں کی تلقین کرنا چھوڑ دو گے اور بُرائیوں سے روکنا چھوڑ دو گے تو اللہ کا عذاب آئے گا اور تم بھی اس سے بچ نہیں سکو گے۔

TOPPOPULARRECENT