Friday , December 15 2017
Home / پاکستان / ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل سیول اور فوجی قیادت سے مشاورت کی تھی : مشرف

ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل سیول اور فوجی قیادت سے مشاورت کی تھی : مشرف

اسلام آباد۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف نے شاید پہلی بار ملک کی سیویلین اور فوجی قیادت کو 2007ء میں اُن (مشرف) کے ذریعہ ایمرجنسی کے نفاذ کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ مشرف کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل انہوں نے سیویلین اور فوجی قیادتوں سے مشاورت کی تھی۔ یاد رہے کہ 72 سالہ مشرف کو 2013ء میں دائر کئے گئے ایک معاملے میں ملک سے غداری کرنے کے مقدمہ کا سامنا ہے کیونکہ انہوں نے 3 نومبر 2007ء کو ملک کے دستور کو معطل کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کی ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے سابق صدر نے سابق فوجی حکمراں پرویز کیانی کو ایمرجنسی کے نفاذ کا اصل ملزم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیانی جو 27 نومبر 2007ء کو فوجی سربراہ بنائے گئے تھے، نے ایمرجنسی کو برخاست نہیں کیا تھا لہذا پرویز کیانی بھی ملزم ہیں۔

پرویز مشرف نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل کیانی کے علاوہ انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز سے بھی تبادلہ خیال کیا تھا اور وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے مشورے پر ہی انہوں نے ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا لہذا وہ (مشرف) ملزم نہیں ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔ شوکت عزیز نے ایمرجنسی کے نفاذ کا جو حکم دیا تھا، وہ سرکاری ریکارڈس سے خفیہ طور پر بعض مفاد حاصلہ کے طلب گاروں نے غائب کردیا ہے۔ چھ سال تک فوجی سربراہ رہنے کے بعد جنرل کیانی 2013ء میں عہدہ سے سبکدوش ہوگئے تھے۔ انہوں نے اب تک مشرف کے ذریعہ ان پر لگائے گئے الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT