Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / ایمرسن نانگاگوا زمبابوے کے نئے صدر

ایمرسن نانگاگوا زمبابوے کے نئے صدر

نیشنل اسٹیڈیم میں عوام کا جم غفیر، معزز شہریوں اور
سفارتکاروں کی شرکت
ایمرسن نانگوا گہرے رنگ کے سوٹ اور
سرخ ٹائی میںملبوس
متحدہ جدوجہد کی افریقی عوام سے نئے صدر کی
اپیل ، اپوزیشن قائد جوائس موجورو کی بھی شرکت
ہرارے ۔ 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایمرسن نانگاگوا نے آج زمبابوے کے نئے صدر کی حیثیت سے عہدہ کا حلف لیا۔نئے صدر نے حلف برداری کے فوری بعد اعلان کیا کہ تمام زمبابوے کے عوام کو متحدہ طور پر جدوجہد کرنی ہوگی۔ حیرت انگیز بات یہ ہیکہ نانگاگوا حالیہ دنوں تک رابرٹ موگابے کے انتہائی بااعتماد ساتھی تصور کئے جاتے تھے۔ تاہم جیسا کہ کہا جاتا ہیکہ سیاست میں نہ کوئی کسی کا مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ مستقل دوست۔ نیشنل اسپورٹس اسٹیڈیم میں نانگاگوا نے آج عہدہ اور رازداری کا حلف کیا جو ہرارے کے نواحی علاقہ میں واقع ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں ان کے ہزاروں حامی، معزز شخصیات اور بیرونی سفارتکار بھی موجود تھے۔ تقریب کا بہت ہی محتاط انداز میں اہتمام کیا گیا تھا اور جہاں سیکوریٹی پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ اسٹیڈیم کے اطراف و اکناف کے علاقہ کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا جبکہ خوشی سے سرشار نانگاگوا کے حامیوں کی کثیر تعداد اسٹیڈیم پہنچ رہی تھی۔ ان میں سے کئی لوگ ایسے تھے جنہوں نے مختلف گروپس بناکر موسیقی اور رقص کے ذریعہ اسٹیڈیم پہنچنے کو ترجیح دی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ نانگاگوا کو ’’مگرمچھ‘‘ کی عرفیت سے بھی جانا جاتاہے ا ور انہوں نے تقریب میں شرکت کیلئے گہرے رنگ کا سوٹ، سرخ ٹائی اور اسی سے ملتی جلتی دستی کوٹ کی جیب میں لگا رکھی تھی جبکہ سینے پر متعدد تمغے بھی سجے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ایک 23 سالہ خاتون شیرون مویا کوفا نے خوشی سے سرشار لہجہ میں کہا کہ ہمیں نانگاگوا سے بیحد توقعات وابستہ ہیں۔ ہم نے ڈکٹیٹر شپ کا طویل دورہ دیکھا ہے اور اب اسے بھول جانا چاہتے ہیں۔ انسانی فطرت ہیکہ وہ تلخ یادوں اور باتوں کو یاد رکھنا نہیں چاہتا۔ شیرون کا اشارہ سابق صدر موگابے کی جانب تھا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ موگابے اب ایک عمر رسیدہ شخص ہیں اور ان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ نئی حکومت انہیں سزاء دے گی۔ 93 سالہ شخص کو سزاء کیونکر دی جاسکتی ہے؟ تاہم ان کی اہلیہ گریس اور دیگر جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو انہیں سخت سے سخت سزاء ملنی چاہئے۔

واضح رہیکہ سابق ڈکٹیٹر نے زمبابوے پر 37 سال تک حکومت کی ہے لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہیکہ جب انسان کا برا وقت آتا ہے تو اس کی عقل سٹھیا جاتی ہے۔ رابرٹ موگابے نے سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ کی کہ اپنے نائب ایمر سن نانگاگوا کو عہدہ سے برطرف کردیا جس سے سیاسی بے چینی کا پیدا ہونا فطری بات ہے اور ہوا بھی یہی۔ فوج کو بالآخر مداخلت کرنا پڑی اور موگابے کا تختہ پلٹ دیا گیا اور موصوف کے پاس سوائے مستعفی ہونے کے کوئی دیگر متبادل نہیں تھا۔ حلف برداری کے مقام یعنی نیشنل اسٹیڈیم میں عوام کا ایک گروپ ایک بڑا سا بیانر لیکر ٹھہرا ہوا تھا جس پر ’’ہم اپنے فوجیوں کے شکرگزار ہیں۔ عوام نے بالآخر اپنا اظہارخیال کر ہی دیا‘‘ تحریر تھا۔ عوام کے جم غفیر میں کئی عمررسیدہ خواتین بھی بیحد مسرور نظر آرہی تھیں۔ موگابے حالیہ دنوں میں علیل رہنے لگے تھے اور صحت دن بہ دن ان کا ساتھ چھوڑتی جارہی تھی جبکہ ان کی اہلیہ گریس نے خود کو ان کے جانشین کے طور پر پیش کرنا بھی شروع کردیا تھا لیکن یہاں زمبابوے کی فوج نے اپنے رول ادا کرتے ہوئے گریس کو صدارتی اقتدار تک پہنچنے نہیں دیا اور نانگاگوا کی قسمت کا دروازہ کھل گیا۔ حالانکہ زمبابوے کے میڈیا نے یہ خبریں تک شائع کردی تھیں اور دعویٰ کیا تھا کہ موگابے اپنے جانشین کی حلف برداری تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ تاہم موگابے اور نانگاگوا کے درمیان کچھ ’’خفیہ‘‘ بات چیت ہوئی تھی جس کا موضوع حلف برداری تقریب تھا۔ موگابے نے تقریب میں شرکت کرنے سے آرام کرنے کو ترجیح دی۔ زمبابوے کی مشہور و معروف ہیرالڈ نیوز سائٹ کی اطلاع کے مطابق نانگاگوا نے موگابے سے وعدہ کیا ہیکہ ان کی (موگابے) اور ارکان خاندان کی سیکوریٹی کا بحیثیت خانگی شہری پورا پورا خیال رکھا جائے گا۔ دوسری طرف صدر کے ترجمان جارج چرمبا نے بھی توثیق کی کہ موگابے حلف برداری تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ نیشنل اسٹیڈیم میں 60,000 افراد کی گنجائش ہے اور حلف برداری تقریب کے دن صبح سے ہی بسوں کے ذریعہ عوام کی کثیر تعداد یہاں پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔ اپوزیشن قائد جوائس موجورو نے بھی حلف برداری تقریب میں شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT