Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / ایم ایس کی ثانیہ فاطمہ اور اُم مہمین صائمہ کو ریاست میں پہلا مقام

ایم ایس کی ثانیہ فاطمہ اور اُم مہمین صائمہ کو ریاست میں پہلا مقام

انٹر سال اول میں 14 طلبہ کو 99 اور 134 کو 98 سے زائد نشانات

حیدرآباد 13 اپریل (پریس نوٹ) کاملیت اگرچہ مفروضہ و خام خیالی ہے لیکن ہم نے جو کچھ حاصل کرسکتے ہیں وہ غیرمعمولی کامیابی اور امتیازی مقام ہے۔ بحمدللہ ایم ایس نے پھر ایک مرتبہ یہ ثابت کر دکھایا ہے۔ ایم ایس جونیر کالج نے 1991 ء میں اس ضمن میں پہلا مقام اٹھایا ہے اور غیرمعمولی بہترین نتائج کی فراہمی کے لئے برادری کی توقعات کی تکمیل کے لئے تمام چیالنجوں کا مقابلہ کررہا ہے۔ ایم ایس نے رواں سال انٹرمیڈیٹ سال اول میں 440 کے منجملہ 437 نشانات کے ساتھ نہ صرف ریاست تلنگانہ میں پہلا مقام حاصل کیا ہے بلکہ انٹرمیڈیٹ سال دوم میں اس کی طالبہ 1000 کے منجملہ 991 نشانات کے ساتھ پہلے مقام پر رہی ہیں۔ جو ایم ایس کی بہترین تعلیم، معیار اور جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ محض ایک دو طلبہ کے رینک حاصل کرنے کی بات نہیں ہے۔ مزید برآں اس کے 14 سے زائد طلبہ 99 فیصد اور زائداز 134 طلبہ نے 98 فیصد، 625 طلبہ 95 فیصد اور 1252 طلبہ 90 فیصد سے زائد نشانات حاصل کئے ہیں۔ ایم ایس کے ڈائرکٹر فضل الرحمن کے مطابق سال اول کے لئے ثانیہ فاطمہ بنت عبدالوحید (ہال ٹکٹ نمبر 1860116102) کو 440 کے منجملہ 437 نشانات حاصل ہوئے۔ سارہ زرین بنت ظہورالدین، تزکہ جوانا بنت عبدالجبار، سمیہ محسن بنت محمد جہانگیر اور زیبا بانو بنت اعجاز علی خاں کو 436/440 نشانات حاصل ہوئے۔ سال دوم کے لئے اُم مہمین صائمہ بنت ایم اے احد 991/1000 کے ساتھ ریاست تلنگانہ میں پہلے مقام حاصل کی ہیں۔ محمد عبدالمبین ولد ایم اے رشید، اشرف رابعہ بنت ڈاکٹر ایم خلیل اللہ، شفقت فاطمہ بنت مرزا سعادت اللہ بیگ کو فی کس کو 989/1000 حاصل ہوئے۔ عالیہ بنت محمد نعیم جلیل کو 988/1000 اور محمد نادر ولد محمد حمید نے 987/1000 حاصل کیا۔ خام خیالی و مفروضوں کو غلط ثابت کرنے حدوں کو توڑنے اور ریکارڈس بنانے طلبہ کی سخت محنت اور جستجو کے بارے میں ایم ایس کے سینئر ڈائرکٹر معظم حسین نے ایسے کئی واقعات بیان کئے جو ناقابل یقین محسوس ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ان میں سے کئی ہونہار طلبہ و طالبات نے دشوار گذار زندگیوں کے باوجود ہر مشکل کا اولوالعزمی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کی ہیں۔ اسوسی ایٹ ڈائرکٹر صادق علی نے کہاکہ یہ محض قسمت کی بات نہیں ہے بلکہ طلبہ کے بہتر مستقبل کے لئے خود کو وقف کردینے والے پُرعزم انتظامیہ، باصلاحیت اور ذہین طلبہ، منتخب اساتذہ، اعلیٰ معیار کافی تحقیق کے ساتھ اختیار کردہ تعلیمی مواد اور ایم ایس ایجوکیشن کے منفرد نظام کا ثمرہ ہے۔ ایم ایس اپنے 27 سالہ سالہ تعلیمی سفر میں انکساری، ملت کے ہونہاروں کی تعلیم اور مستقبل کو بہتر بنانے کی مساعی میں مصروف ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT