Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ایم ایس کی عصری تعلیم کیساتھ قرآن مجید کی تعلیم مستحسن اقدام

ایم ایس کی عصری تعلیم کیساتھ قرآن مجید کی تعلیم مستحسن اقدام

حفظ اکیڈیمی کا دستاربندی پروگرام، علماء کرام کا اظہار خیال

حیدرآباد 15 اپریل (پریس نوٹ) ایم ایس نے ماڈرن تعلیم کو جس طرح قرآن سے جوڑا ہے وہ ایک لائق تحسین قدم ہے اور دنیا کے لئے ایک نمونہ ہے۔ یہاں کے پاس آوٹ حفاظ دنیا کے لئے ایک مثال بنیں گے جو دنیا کے بڑے سے بڑے پوسٹ پر پہنچ کر غریبوں کا خیال رکھنے والے ہوں گے اور اپنے حسن سلوک سے سماج کے لئے عملی نمونہ ہوں گے۔ آج ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی عبدالوہاب نے ایم ایس حفظ اکیڈمی کے سالانہ دستاربندی میں کیا۔ آج اس جلسہ میں 28 حفاظ کی دستاربندی کی گئی جنھوں نے 2 برس کے اندر حفظ قرآن مکمل کیا۔ مولانا نے حفظ قرآن اور دینی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ موجودہ دور کے پرآشوب ماحول میں ہمیں اپنے بچوں کی تربیت پر کافی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھیں ماڈرن تعلیم کے ساتھ قرآن سے اس طرح جوڑا جائے کہ وہ اپنا ایمان برقرار رکھ سکیں۔ انھوں نے کہاکہ اللہ کی کتاب کے بغیر ہماری نجات ممکن نہیں ہے۔ آج ہم ان حافظ بچوں کے سر پر کپڑے کی دستار باندھ رہے ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان حفاظ کے والدین کے سر پر موتی کا دستار پہنائے گا۔ قرآن مجید ہمیں جگ مگ کرنے آیا ہے۔ یہ ہماری ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا ہے۔ ہماری کامیابی قرآن میں ہے۔ انھوں نے ایم ۔ ایس کے کاموں کی ستائش کرتے ہوئے ایم ایس حفظ اکیڈمی کو ایک خوش آئند قدم بتایا۔ آج مہدی پٹنم آصف نگر کے رائل ریجنسی گارڈن میں منعقدہ ایم ایس حفظ اکیڈیمی کے سالانہ دستاربندی میں 28 فارغ التحصیل حفاظ کی دستاربندی عمل میں آئی۔ ان نونہالوں نے 11 مہینے سے لے کر 24 مہینوں کے اندر حفظ قرآن مکمل کیا ان میں سے 3 بچے ایسے ہیں جنھوں نے ایک ہی دور میں اپنا قرآن مکمل کیا۔ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے چیرمین محمد عبداللطیف خان نے اپنے خطاب میں کہاکہ گزشتہ حفظ اکیڈیمی کے پہلے دستاربندی میں 9 بچوں کی دستاربندی کی گئی تھی اور امسال کے دستاربندی پروگرام میں 28 بچوں کی دستاربندی کی جارہی ہے جو 11 مہینوں سے لے کر دو برس کے اندر حفظ مکمل کیا ہے۔ اگلے برس ہمارا نشانہ 50 بچوں کی دستاربندی کرنا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہماری کامیابی ریسرچ پر مبنی ہے۔ ہم دنیا بھر میں ہورہے حفظ کی تعلیم کا گہرائی سے ریسرچ کرکے حفظ کرنے کے طریقہ کار کو اپنے یہاں لاگو کیا۔ دنیا بھر میں ہورہے میموری ڈیولپمنٹ کی ٹکنیک کو اپنے اکیڈمی میں لاگو کررہے ہیں۔ ہمارے اکیڈمی میں حفظ کرنے والے بچوں اور والدین کو ایک گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کرنا پڑتا ہے تبھی بچے کامیاب ہوتے ہیں اور دو برس اور اس سے بھی کم عرصہ میں حفظ قرآن مکمل کرلیتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ بچیوں کا حفظ اکیڈمی شروع کیا جاچکا ہے اور 21 بچیوں کا داخلہ بھی ہوچکا ہے اور اگلے برس بچیوں کا بھی دستاربندی پروگرام شروع ہوجائے گا۔ جدہ سے آئے مولانا نعیم نے اپنی تقریر میں کہاکہ جو بچہ حافظ ہوتا ہے اس کا انتخاب اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے انعام ہے۔ انھوں نے قرآن کی تعلیم کو اصل علم بتاتے ہوئے کہاکہ یہی اصل علم ہے باقی تمام فنون ہے۔ قرآن کے علاوہ ہم جو بھی پڑھتے ہیں ان پر ثواب نہیں ہے۔ انھوں نے حفظ مکمل کرنے والے بچوں کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ یہ اللہ کی طرف سے ایک سند ہے جو انھیں ملی ہے۔ انھوں نے پرزور الفاظ میں صلاح دیتے ہوئے کہاکہ ان بچوں کو حافظ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور ان کے نام کے آگے حافظ لکھا جائے۔ ایم ایس حفظ اکیڈمی کے مہتمم مفتی نعیم نے حفظ اکیڈمی کی کارگذاری پیش کرتے ہوئے کہاکہ امسال 28 بچوں نے دو برس کے اندر حفظ قرآن مکمل کرلیا ہے۔ ان میں سے تین بچے ایسے ہیں جنھوں نے ایک دور میں ہی پورا قرآن سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ حفظ اکیڈمی میں کلاس 5 پاس بچوں کا داخلہ لیا جاتا ہے اور ان کو دو برس کے اندر حفظ مکمل کراکر دوبارہ اسکول میں داخل کرادیا جاتا ہے۔ اس طرح بچے کی دنیاوی تعلیم بھی جاری رہتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ حفظ مکمل کرنے کے بعد اسکول میں بھی بچے کا قرآن سنانے کا دور جاری رکھا جاتا ہے تاکہ قرآن پوری طرح اس کے سینے میں محفوظ رہے۔ انھوں نے کہاکہ گزشتہ برس 9 حفاظ نے تراویح میں بھی قرآن سنایا تھا۔ واضح رہے کہ ایم ۔ ایس کی یہ کوشش ہے کہ ملت کے نونہال عصری علوم کے ساتھ دینی علوم میں بھی دسترس رکھیں۔

TOPPOPULARRECENT