Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ایم ایل اے صاحب کی عادت ہے وہ 5 سال میں ایک مرتبہ ضرور آتے ہیں

ایم ایل اے صاحب کی عادت ہے وہ 5 سال میں ایک مرتبہ ضرور آتے ہیں

یاقوت پورہ میں سرکاری اسکول غائب، میدانوں پر مکانات، اب کی بار وہی ہوگا جو ہم چاہیں گے

یاقوت پورہ میں سرکاری اسکول غائب، میدانوں پر مکانات، اب کی بار وہی ہوگا جو ہم چاہیں گے

حیدرآباد ۔ 11 اپریل (پی ٹی این) اب بہت ہوچکا۔ ہم نے کافی برداشت کرلیا ہے۔ یہ انتخابات ہمارے لئے ایک اچھے ایم ایل اے کے انتخاب کا بہترین موقع ہے۔ ہمارے حلقہ کے ایم ایل اے صاحب ہماری خبر گیری ضرور کرتے ہیں لیکن ان کی ایک عادت بہت بری ہے وہ ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ اپنا دیدار کرواتے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ نظر نہیں آتے۔ اس طرح کے خیالات کا شہر کے اسمبلی حلقوں کے اکثر رائے دہندے اظہار کررہے ہیں۔ ہم نے سرکاری ملازمین، خانگی اداروں سے وابستہ افراد، کرایہ کی ٹیکسیاں چلانے والے ڈرائیوروں، آٹو چلاتے ہوئے اپنی زندگیوں کی گاڑیاں آگے بڑھانے والے آٹو ڈرائیوروں، کچھ اساتذہ، یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ، پنکچر بنانے والے محنت کشوں اور مزدوری کرتے ہوئے حلال کی کمائی کھانے والے غریب افراد سے بات کی۔ سب سے پہلے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں سڑک کے کنارے پنکچر بنانے والے درمیانی عمر کے شخص سے بات کی۔ اس شخص نے انتہائی تیز و تند لہجہ میں جواب دیا ’’صاحب بہت ہوگیا۔ ہم ووٹ پہ ووٹ دیتے جارئیں اور وہ لوگاں مال بنارئیں۔ اس شخص نے اپنا نام کریم الدین بتایا اور کہا کہ وہ پانچ بچوں کا باپ ہیں۔ ایک باڑہ میں رہتا ہوں۔ معاشی حالت ایسی نہیں کہ بچوں کو کسی خانگی اسکول میں شریک کروائے جبکہ سرکاری اسکول نظر ہی نہیں آتے۔ عبدالکریم کے مطابق انہوں نے مجبوراً اپنے بچوں کو کام پر لگادیا ہے۔ ان کے خیال میں اگر ان کے محلہ میں کوئی سرکاری اسکول ہوتا تو وہ ضرور اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے۔ تالاب کٹہ کے جہانگیر شریف کاکہنا ہیکہ ایم ایل اے منتخب ہونے کے بعد دوبارہ دکھائی نہیں دیتے۔ گلیوں سڑکوں پر کچرے کے انبار پڑے بھی ہوں تو کوئی دیکھنے والا نہیں۔ جہاں تک اسکولوں کا سوال ہے اکثر سرکاری اسکولوں کی عمارتوں پر قبضے کرتے ہوئے ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ ایسے میں بچوں کو تعلیم کہاں دلائیں؟ جہانگیر شریف کا جو کپڑوں کی ایک دکان میں کام کرتے ہیں یہ بھی کہنا ہیکہ علاقہ میں اتنی غریبی ہیکہ لوگ سودخوروں کے چنگل میں پھنستے جارہے

جبکہ ان سودخوروں کو لیڈروں کی پوری پوری مدد حاصل ہے۔ اس شخص نے مزید بتایا کہ لیڈران تو ووٹ ہمارے لئے ہیں لیکن مدد سودخوروں اور غنڈوں کی کرتے ہیں۔ تالاب کٹہ کے بالکل قریب امان نگر کے رائے دہندے بھی اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ شرفن خالہ کے نام سے مشہور خاتون نے بتایا کہ علاقہ میں غریبی ہے۔ بچوں کیلئے کوئی سرکاری اسکول نہیں نتیجہ میں غریب مسلمانوں کے بچے اسکول جانے کی بجائے ہوٹلوں، دکانوں، کارخانوں میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ شرفن خالہ نے جو خود بھی تعلیم سے کافی دور دکھائی دے رہی تھیں حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے پرزور انداز میں کہا کہ اگر بچے تعلیم حاصل نہیں کریں گے، اسکول نہیں جائیں گے تو ترقی کیسے کریں گے۔ انہوں نے اپنے حلقہ کے ایم ایل اے کے بارے میں بتایا، باوا پانچ سال میں ایک دو مرتبہ ہی وہ ہمیں نظر آئے اس کے بعد اب گلیوں میں پھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس خاتون نے یہ بھی کہا کہ وقت ہمیشہ کسی کا نہیں ہوتا، مجبوری کا کوئی بھی شکار ہوسکتا ہے۔ کل تک ایم ایل اے صاحب آرام کررہے تھے آج گلی گلی کے ہوگئے۔ اگر وہ عوام کی ضروریات کا خیال رکھتے تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔ ہم شرفن خالہ سے بات ہی کررہے تھے کہ وہاں ایک مسجد کے مؤذن صاحب بھی آ گئے۔ انہوں نے شرفن خالہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ہماری توجہ ایک بہتی موری کی جانب مبذول کروائی اور بتایا کہ یہ موری ایک دو نہیں بلکہ برسوں سے بہہ رہی ہے۔ ایم ایل اے صاحب کو توجہ دلائی گئی لیکن کچھ فائدہ نہیں۔ موری کا گندہ پانی مکانات کی بنیادوں کو کمزور کررہا ہے۔ ان سے بات کرتے ہوئے ہم کچھ آگے بڑھے تو دیکھا کہ کچھ لوگ وہاں جمع ہیں جو ایک ضعیف شخص کو گھیرے ہوئے ہیں۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ بیچاروں کی سیکل ایک گڑھے میں اتر گئی۔ نتیجہ میں ان کے گھٹنوں اور کہنیوں پر زخم آئے۔ مجمع میں موجود افراد نے ایک آواز ہو کر کہا اگر ہمارے لیڈرا چھے ہوتے انہیں اپنے فرائض کا خیال ہوتا تو سڑکوں پر اس طرح گڑھے کھڈے نہیں ہوتے۔ ایک نوجوان نے جو لیتھ مشین کے کارخانے میں کام کرتا ہے بتایا کہ اس نے 20 برسوں سے یاقوت پورہ کو دیکھا ہے، کوئی ترقی نہیں جبکہ نئے شہر میں بہت ترقی ہوئی۔ یہاں وہی غربت، وہی بہتے نالے، سڑکوں پر کچرے کے انبار نظر آتے ہیں۔ حد تو یہ ہیکہ اس حلقہ میں جو کھیل کے میدان تھے، ان کی بھی پلاٹنگ کردی گئی۔ اس نوجوان کی زبان سے میدان کا نام سنتے ہی وہاں موجود کمسن بچوں نے بتایا کہ انہیں کرکٹ کھیلنے کیلئے دوردراز کے علاقوں میں جانا پڑتا ہے یا پھر گلیوں، سڑکوں پر ہی بلے بازی و گیند بازی شروع کرنی پڑتی ہے۔ بعض مقامات پر ہماری چند تعلیمیافتہ نوجوانوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ہم صرف اس لئے خاموش رہے کہ ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں تھا لیکن اب لگتا ہیکہ متبادل آ گیا ہے۔ ایسے میں وہ اپنی طاقت کا اظہار بڑی خاموشی کے ساتھ ووٹ کے ذریعہ کریں گے۔

ایک کیبل آپریٹر نے فلمسٹار عامرخاں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم سبزی خریدنے جاتے ہیں تو ترکاری کو بہت گہرائی سے جائزہ لے کر خریدتے ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر جاسوسوں کی طرح لڑکے اور اس کے گھر والوں کی چھان بین کرتے ہیں لیکن ایم ایل اے کے انتخاب میں یہ نہیں دیکھتے کہ اس نے اپنے حلقہ میں کتنے سرکاری اسکول قائم کئے، کتنے نوجوانوں کو روزگار سے لگایا، بچہ مزدوری کے خاتمہ کیلئے اس نے کیا اقدامات کئے؟ غریبوں کو سودخوروں سے محفوظ رکھنے کیلئے کتنے لوگوں کی مدد کی؟ اپنے حلقہ میں کتنی سرکاری ڈسپنسریاں اور بینکس قائم کئے؟ اور ضرورتمندوں، تعلیمیافتہ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے کتنا قرض دلایا ہے؟ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے یہ ہمارے لئے ایک ایسے نمائندہ کو منتخب کرنے کا سنہرا موقع ہے جو بروقت عوام کی خدمت کیلئے دستیاب رہے۔ عوام کی ان باتوں کو سن کر ہم سوچنے لگے کہ یقیناً زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔

TOPPOPULARRECENT