Saturday , January 20 2018
Home / سیاسیات / ایم این ایس کا احتجاج ، ماقبل انتخابات ’’تماشہ ‘‘

ایم این ایس کا احتجاج ، ماقبل انتخابات ’’تماشہ ‘‘

ممبئی۔ 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے اور پارٹی کارکنوں کی جانب سے پوری ریاست میں کئے گئے راستہ روکو احتجاج کو کانگریس اور این سی پی نے اسے ماقبل انتخابات ایک ’’تماشہ‘‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی اس احتجاج سے مناسب انداز میں نمٹنے اور ریاست میں نظم و نسق کی برقراری پر حکومت مہاراشٹرا کو مبارکباد دی۔

ممبئی۔ 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے اور پارٹی کارکنوں کی جانب سے پوری ریاست میں کئے گئے راستہ روکو احتجاج کو کانگریس اور این سی پی نے اسے ماقبل انتخابات ایک ’’تماشہ‘‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی اس احتجاج سے مناسب انداز میں نمٹنے اور ریاست میں نظم و نسق کی برقراری پر حکومت مہاراشٹرا کو مبارکباد دی۔ کانگریس ترجمان سچن ساونت نے ذرائع ابلاغ سے کہا کہ ایم این ایس کا راستہ روکو احتجاج ایک ناکام احتجاج تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہاراشٹرا کی ٹول ٹیکس پالیسی دوسری ریاستوں کی بہ نسبت پہلے ہی صاف و شفاف ہے اور اسے مزید شفاف بنانے کی کوشش جاری ہے۔ باوجود اس کے ایم این ایس کا احتجاج محض ایک سیاسی تماشہ ہے جو صرف ووٹ کے حصول کے لئے کیا گیا۔ دوسری طرف این سی پی ترجمان نواب ملک نے بھی ایم این ایس کے احتجاج کو تماشہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راج ٹھاکرے پر یہ حقیقت واضح ہوجانے کے بعد کہ ان کے پاس دوسری کوئی طاقت نہیں ہے، اور ان کی پارٹی کوئی اچھا کام نہیں کرسکتی، عوام کی توجہ اپنی طرف راغب کرنے کیلئے یہ تماشہ کیا گیا ہے۔عام آدمی پارٹی کے رکن اجیت ساونت نے الزام عائد کیا کہ یہ ایم این ایس ۔ کانگریس اور این سی پی کی ملی بھگت ہے جو عوام کی توجہ اصل موضوعات سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دریں اثناء مہاراشٹرا بی جے پی یونٹ کے ترجمان مادھو بھنڈاری نے بھی آپ پارٹی کے خیال سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایم این ایس اور حکمران جماعت عوام کی توجہ اصل موضوعات روزگار اور ترقی سے ہٹا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT