Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / ایم اے اردو کی 180 نشستوں کیلئے صرف 89 درخواستیں

ایم اے اردو کی 180 نشستوں کیلئے صرف 89 درخواستیں

اردو والوں کا المیہ ، شہر حیدرآباد میں نوجوانوں کی اپنی زبان سے بے اعتنائی
حیدرآباد۔12جولائی (سیاست نیوز) اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے اور اس کی ترقی کیلئے حکومت کی جانب سے متعدد دعوے کئے جاتے رہے ہیں لیکن شہر حیدرآباد کا عظیم علمی ورثہ جامعہ عثمانیہ جس کا ذریعۂ تعلیم اردو ہوا کرتا تھا آج اس جامعہ کو اردو میں پوسٹ گریجویشن کے طلبہ میسر نہیں ہیں۔ایم اے اردو جامعہ عثمانیہ میں 180نشستیں موجود ہیں لیکن ان نشستوں پر داخلہ کیلئے صرف 89درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اردو زبان عالمی سطح پر تیزی سے ترقی حاصل کرتی جارہی ہے اور انفارمیشن ٹکنالوجی میں اردو زبان کے استعمال پر کافی کوششیں کی جانے لگی ہیں لیکن اس کے باوجود پوسٹ گریجویشن میں جامعہ عثمانیہ جیسی عظیم دانشگاہ کو اردو کے طلبہ میسر نہ ہونا اردو زبان والوں کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اردو زبان کی ترقی ‘ ترویج و اشاعت میں شہر حیدرآباد کا اہم کردار رہا ہے لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد میں نوجوانوں کی اردو زبان سے اعتنائی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ بنیادی تعلیم میں اردو کے معیار کے بہتر نہ ہونے کے علاوہ دیگر کئی وجوہات جن کی بناء پر پی۔جی کی یہ نشستیں مخلوعہ رہنے کا خدشہ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں طلبہ عربی زبان کو بطور اختیاری مضمون پڑھنے لگے ہیں کیونکہ اس مضمون میں 90فیصد نشانات کا حصول آسان ہے اسی لئے طلبہ انٹرمیڈیٹ سے ہی عربی کی طرف متوجہ ہونے لگے ہیں جو کہ اردو سے بے اعتنائی کی وجہ بن رہا ہے۔ علاوہ ازیں بعض خانگی اسکولوں میں طلبہ اردو پڑھنا چاہتے ہیں لیکن اساتذہ میسر نہ ہونے کے سبب انتظامیہ انہیں ہندی زبان بطور اختیاری مضمون اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ خانگی اسکولوں میں اردو نہ پڑھائے جانے کے ساتھ ساتھ اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کی صورتحال تو سب پر آشکار ہے۔ ایسی صورت میں اردو زبان کی ترقی کا خواب دیکھنے والے صرف خوابوں کی ونیا میں رہ جائیں گے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ اردو ذریعۂ تعلیم کے ساتھ شروع کی گئی جامعہ عثمانیہ سے ہی اردو پوسٹ گریجویٹ کی نشستیں برخواست کردی جائیں گی اور اہل اردو یہ تماشہ دیکھتے رہ جائیں گے کیونکہ سابق میں ایسا ہوا بھی ہے۔ پی جی کالج سکندرآباد میں طلبہ کی قابل لحاظ تعداد نہ ہونے کے سبب اردو پوسٹ گریجویشن کورس کا خاتمہ کر دیا گیا۔ جامعہ عثمانیہ جو کہ اپنی صد سالہ تقاریب منعقد کر رہی ہے ایسی صورت میں ایم اے اردو کے داخلوں میں یہ صورتحال نہ صرف اردو زبان والوں کیلئے افسوسناک بات ہے بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی اس خصوص میں غور کرتے ہوئے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ اردو زبان کو عصری ضرورتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں زبان کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کی وسیع و عریض دنیا میں علاقائی زبانوں کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے اور مختلف زبانوں کے بولنے والے اس چلن کو اختیار کرنے لگے ہیں اور ماہرین کے بموجب اردو زبان بھی تیزی سے سائبر دنیا کا حصہ بنتی جا رہی ہے اور مستقبل قریب میں آئی ٹی صنعت میں اردوداں ماہرین کی ضرورت ہوگی تو ایسے وقت ہم خود محروم نہ رہیں اس احساس کو اجاگر کیا جانا ضروری ہے کیونکہ اردو سائبر دنیا کو ایک مخصوص ملک کے نوجوانوں کی میراص نہ بننے دینے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم اردوداں ماہرین کی تیاری میں کوتاہی نہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT