Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / ایم بی بی ایس طالبہ نزہت فاطمہ کا سارا تعلیمی خرچ برداشت کرنے کا اعلان

ایم بی بی ایس طالبہ نزہت فاطمہ کا سارا تعلیمی خرچ برداشت کرنے کا اعلان

lایمسیٹ میں 8 واں رینک حاصل کرنے والی طالبہ کو 50 ہزار روپئے کی پیشکشی
lملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ سے امداد ، لڑکیوں کی تعلیم پر جناب زاہد علی خاں کا زور
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی ) : اولاد کے لیے ماں باپ دونوں کی جو اہمیت ہوتی ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’تمہارے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار تمہاری ماں ہے تمہاری ماں ہے تمہاری ماں ہے پھر تمہارا باپ ‘ ۔ کسی کی زندگی میں ماں جیسی نعمت نہ ہو تو اس کا درد وہی اولاد محسوس کرسکتی ہے جو ماں جیسی نعمت سے محروم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے ساتھ ساتھ باپ کو بھی اولاد کے لیے دنیا کا بہترین تحفہ بنایا چنانچہ کسی کے سر سے ماں کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو باپ ، اپنی اولاد کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیتا ہے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا ۔ نرمل کے رہنے والے لاری ڈرائیور سید اختر حسین بھی ایسے ہی باپ ہیں جنہوں نے اپنی تین بیٹیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی نزہت فاطمہ نے تلنگانہ ایمسیٹ میڈیسن میں 8 واں رینک حاصل کرتے ہوئے عثمانیہ میڈیکل کالج میں اپنے داخلہ کو یقینی بنایا ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے اس 17 سالہ ہونہار طالبہ کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ نزہت فاطمہ جیسی لڑکیاں دوسری دختران ملت کے لیے ایک بہترین مثال ہے ۔ دفتر سیاست میں نزہت فاطمہ اور ان کے والد سید اختر حسین نے جناب یونس اکبانی کے ہمراہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی ۔ جہاں نزہت فاطمہ کو ایڈیٹر سیاست نے 50 ہزار روپئے پیش کئے ۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ ایم بی بی ایس کورس کی تکمیل تک اس لڑکی کو سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے ( پچیس پچیس ہزار ) جملہ 50 ہزار روپئے دئیے جائیں گے ۔ جس کے باعث اسے اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے تگ و دو کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ جناب زاہد علی خاں کے مطابق نزہت فاطمہ جیسی لڑکیاں ملت کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ یہ مسلم معاشرہ میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے بتایا کہ ملت میں تعلیمی انقلاب کے لیے سیاست اور ایڈیٹر سیاست کی شروع کردہ تحریک میں فیض عام ٹرسٹ بھر پور حصہ لے رہا ہے ، اور لیتا رہے گا ۔ واضح رہے کہ نزہت فاطمہ نے ایل کے جی تا چھٹویں جماعت تک نرمل کے روی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی اور والدہ کے انتقال کے بعد یہ خاندان عادل آباد منتقل ہوگیا جہاں کے سینٹ جوزف کانونٹ ہائی اسکول سے دسویں کامیاب کیا ۔ ایس ایس سی میں نزہت فاطمہ نے 10 میں سے 10 جی پی اے حاصل کئے ۔ جو نہ صرف نرمل ، ضلع عادل آباد بلکہ آندھرا پردیش و تلنگانہ کے مسلمانوں کے لیے ایک اعزاز ہے ۔ سری چیتنیہ جونیر کالج نظام پیٹ حیدرآباد سے انٹر میڈیٹ بھی انہوں نے اعلیٰ نمبرات سے کامیاب کیا ۔ 1000 نمبرات میں سے 987 نمبرات حاصل کر کے نزہت نے سب کو حیران کردیا ۔ آپ کو بتادیں کہ نزہت کی بڑی بہن سمیہ فاطمہ نے بی ٹیک میں امتیازی کامیابی حاصل کی اور منجھلی بہن نصرت فاطمہ بی ایس سی فائنل کی طالبہ ہیں ۔ نزہت فاطمہ اپنی کامیابی کے لیے سب سے پہلے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجالاتی ہیں وہ اپنی کامیابی کا کریڈیٹ اپنے والد سید اختر حسین کو دیتی ہیں ۔ اس لڑکی نے اپنے والد کے بارے میں بتایا ’ میرے والد پر مجھے فخر ہے وہ دنیا کے سب سے اچھے باپ ہیں ہر مشکل کا بڑی حوصلہ مندی سے مقابلہ کرتے ہیں وہ میرے لیے باپ اور ماں دونوں ہیں ‘ ۔ نزہت فاطمہ ، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین کا بھی شکریہ ادا کرتی ہیں ۔ دختران ملت کے نام پیام میں وہ کہتی ہیں کہ مسلم والدین اپنے بچوں خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دیں ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔ تعلیم یافتہ لڑکیوں سے معاشرہ میں وہ تعلیمی انقلاب برپا ہوگا جو قوموں کی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT