Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / ایم جے اکبر، جھوٹ بولنا بند کرو، آپ نے مجھ پر بھی زیادتی کی تھی : توشیتا پاٹل

ایم جے اکبر، جھوٹ بولنا بند کرو، آپ نے مجھ پر بھی زیادتی کی تھی : توشیتا پاٹل

صرف غزالہ وہاب ہی نہیں اور بھی کئی خواتین ہوس و طاقت کی شکار ، دھمکیاں ہمیں خاموش نہیں کریں گی

نئی دہلی ۔16 اکتوبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) صحافی سے سیاستداں بننے والے مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر زائد از 10 خواتین کی طرف سے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کئے جانے پر پیداشدہ تنازعہ کے درمیان ان کی مشکلات میں آج مزید اضافہ ہوگیا جب اُن کی یک سابق رفیق کار خاتون صحافی توشیتا پاٹل نے گزشتہ 36 سال کے دوران مختلف موقعوں پر کام اور ملاقاتوں کے دوران ان کے ساتھ پیش آئے تلخ تجربات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میں اب بھی کچھ نہ کہوں تو میں یہ سمجھوں گی کہ میں بھی آپ (اکبر) کے جرائم میں برابر کی شامل ہوں… ایم جے اکبر اب جھوٹ بولنا بند کریں۔ آپ نے مجھے بھی جنسی طورپر ہراساں کیا تھا۔ آپ کی دھمکیاں اب ہمیں خاموش نہیں کرسکیں گی ‘‘ ۔ توشیتا پاٹل نے اپنے طویل مضمون میں لکھا کہ ’’کسی احساس ندامت و توبہ کے بغیر آپ کے جھوٹ اور خوش مزاج مسکراتے چہرہ کے ساتھ کہے جانے والی جھوٹی دلیل و بحث کو میں کسی حیرت کے ساتھ نہیں بلکہ شدید غم و غصہ کے ساتھ پڑھ رہی ہوں۔ جنسی ہراسانی کی شکار خواتین کو ڈرانے اور شرمندہ کرنے کیلئے آپ کی کوششیں احساس سے عاری ہیں ۔ ان میں بعض بیانات انتہائی احمقانہ بھی ہیں۔ پاٹل نے یاد دلایاکہ ’’1992 ء میں جب میں کلکتہ میں ڈیلی ٹیلی گراف میں ایک ٹرینی تھی آپ صحافت چھوڑکر سیاسی میدان سے وابستہ ہوچکے تھے اور ایک مرتبہ کلکتہ آئے تھے ۔ میرے ساتھیوں کا ایک گروپ آپ سے ملاقات کے لئے آپ کی ہوٹل جارہا تھا ، مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ آیا میں بھی ایم جے اکبر سے ملاقات کرنا چاہوں گی ۔ میرا جواب تھا کہ کون نہیں چاہتا ؟ یقینا … میں بھی سب کے ساتھ چل پڑی ۔ میں نے آپ سے ملاقات کی ۔ یہ ہنسی مذاق کی شام رہی ۔ اس دن کے بعد آپ نے (کسی اور سے ) میرے گھر کے فون نمبر کا پتہ چلا بھی لیا اور مجھے مسلسل کال کرنا شروع کردیا تھا اور مبہم انداز میں کام سے متعلق اُمور کے بہانے مجھ سے اپنے پاس آنے اور اپنی ہوٹل میں ملاقات کیلئے اصرار کرنے لگے تھے ۔ آپ کی ان کوششوں اور پہل کو کئی مرتبہ نظرانداز کرنے کے باوجود بالآخر میں آپ سے ملاقات کیلئے مجبوراً تیار ہوگئی اور ہوٹل پہونچکر گھنٹی بجائی ۔ آپ نے دروازہ کھولا اور صرف انڈرویئر پر تھے۔ میں دروازہ پر کھڑی اس عجیب حالت کو دیکھ کر خوفزدہ ، پریشان ہوگئی تھی۔ آپ وی آئی پی ( انڈر ویئر کے اشتہاری ) آدمی کی طرح کھڑے میری پریشانی دیکھ کر محو حیرت تھے ۔ بہرحال میں ہوٹل میں اندر تو آگئی لیکن اُس وقت ڈر اور خوف سے کپکپاتی رہی جب تک آپ باتھ روب پہن چکے تھے ۔ اس انداز کو آپ ( اکبر) کیا کہیں گے ؟ کیا کسی 22 سالہ لڑکی کا اس برہنی حالت میں استقبال کرنا دراصل آپ کی طرف سے لئے جانے والے اخلاق کے امتحان میں کامیابی کا پیمانہ تھا؟ کیا یہ ایسا نہیں تھاکہ ’’کچھ کیا جائے ‘‘۔ میں آپ کو اس وقت اچھی طرح دیکھ چکی تھی ۔ جس کے بعد آپ کو ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے وزیر خارجہ کی حیثیت سے دیکھنا یا تصور کرنا میرے لئے بہت دشوار ہوچکا تھا ۔ توشیتا پاٹل کے اس بیان کے بعد بالی ووڈ کی کئی اہم شخصیات کے خلاف بھی بشمول اداکار الوک ناتھ کے خلاف بھی الزامات عائد ہوئے جس کے نتیجہ میں کئی اہم شخصیات کو اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ الوک ناتھ نے ایم جے اکبر کی طرح شکایت کنندہ کے خلاف ہتک عزت دعویٰ دائر کیا ہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے ایم جے اکبر کے تنازعہ پر وزیراعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ آئی ایم پی سی نے راجناتھ اور مینکا گاندھی کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے ان سے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کیلئے مداخلت کا مطالبہ کیا ۔ بالی ووڈ کی کئی اہم شخصیات نے ان پر عائد جنسی ہراسانی اور نامناسب سلوک کے الزامات کی تردید بھی کی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT